مدت کے بعد آج پھر نواب صاحب کا چہرہ نظر آیا ہے ۔آگے تو ایک گھر سے نکل کر دوسرے گھر میں جا بیٹھا کر تے اور اندھیرے میں چہرہ بھی نظر نہ آتا تھا ۔ فر اغت بیٹھے بیٹھے آپ نے فر ما یا کہ :۔ جیسے ایک مرض ہو تی ہے کہ اس میں جب تک مکیا ں ما رتے رہیں تو آرام رہتا ہے ۔اسی طرح فراغت میر ے واسطے مرض ہے ایک دن بھی فا رغ رہو ں تو بے چین ہو جا تا ہوں اس لیے ایک کتا ب شروع کر دی ہے جس کا نا م حقیقت دعا رکگا ہے ایک رسالہ کی طرز پر لکھا ہے ۔ دعا دعا ایسی شے ہے کہ جب آدم کا شیطا ن سے جنگ ہو اتو اس وقت سوائے دعا کے اور کو ئی حربہ کا م نہ آیا ۔آخر شیطا ن پر آدم نے فتح بذریعہ دعا پا ئی ربنا ظلمنا الفسنا وان لم تغفر لنا وتر حمنا لنکر نن من الخاسرین ۔ (سورت الا عراف :۲۴) اور آخر میں بھی دجا ل کے ما رنے کے واسطے دعا ہی رکھی ہے ۔گو یا اول بھی دعا اور آخر بھی دعا ہی دعا ہے حا لت موجود بھی یہی چاہتی ہے تما م اسلامی طا قیتں کمزور ہیں ۔اور ان موجود اسلحہ سے وہ کیا کا م کرسکتی ہیں ؟ اب اس کفر وغیرہ پر غالب آنے کے واسطے اسلحہ کی ضرورت بھی نہیں ۔آسما نی حربہ کی ضرورت ہے ۔ (البدر جلد۲نمبر ۱۰ صفحہ ۷۷، مو رخہ ۲۷ ؍مارچ ۱۹۰۳ئ؁) ۱۹ مارچ ۱۹۰۳؁ء مجلس قبل از عشاء حضور نے شہ نشین پر جلوہ گر ہو کر فرمایا کہ ـ آج طبیعت نہایت علیل تھی کہ اٹھنے کی طاقت نہیں ہوئی ۔اسی لیے ظہر و عصر کے اوقات میں نہ آسکا چند ایک دریدہ دہن آریوں کے بیبا کا نہ اعتراض پر فرمایا کہ یہ گندہ ز بانی سے باز نہیں آتے ہم بھی ان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ۔ ؎ گرنبا شدبدست راہ بردن شرط عشق است در طلب مُردن جب انسان کے دل میں میل ہوتا ہے تو ایک فرشتے کو بھی میلا سمجھ لیتا ہے ۔ ایک رئویا فرمایا کہ آج میں نے ایک خواب دیکھا جسے آنکھ کے آگے ایک نظارہ گذر جاتا ہے ۔دیکھتا ہوں