۱۷؍مارچ ۱۹۰۳ئ
قبل ازعشاء
معجزہ شق القمر کی شہادت ہندوستا ن میں
پنڈت نند کشور صاحب سے معجزا ت پر گفتگو ہو ئی پنڈت صاحب معجزہ شق القمر کی نسبت کہا کہ بھو ج سوانح ایک کتا ب سنسکر ت میں ہے مجھ سے پنڈتو ں نے بیا ن کیا ہے کہ اس میں شق القمر کی شہادت راجہ بھو ج سے ہے کہ وہ اپنے محل پر تھا یکا یک اس نے چا ند کو ٹکڑے ہو تے ہو ئے دیکھا ۔اس نے پنڈتو ں کو بلا کر پو چھا کہ یہ با ت ہے کہ چا ند اس طرح پھٹا ۔راجہ نے خیا ل کیا کہ کو ئی عظیم اچا ن حا دثہ ہو گا ۔پنڈتو ں نے جو ابدیا کہ کو ئی خطرہ نہیں ہے پچھم کے دیس میں ایک مہا تما پیدا ہو اہے ۔ وہ بہت یو گی ہے اس نے اپنے یو گ بھا ش سے چا ند کو ایسا کر دیا ہے تب راجہ نے اسے تحفہ تحائف ارسال کئے ۔
تفسیر قر آن کا طریق
قر آن کی تفسیر کے متعلق فر ما یا کہ
خدا کے کلام کے صحیح معنی تب سمجھ میں آتے ہیں کہ اس کے تما م رشتہ کی سمجھ ہو جیسے قر آن شریف کی نسبت ہے کہ اس کا بعض حصہ بعض کی تفسیر کر تا ہے ۔اس کے سوا جو اور کلا م ہو گا وہ تو اپنا کلام ہو گا دیکھاگیاہے کہ بعض وقت ایک آیت کے معنے کر نے کے وقت دوسوآیتیں شا مل ہو تیہیں ۔ایجا دی معنے کر نے والوں کا منہ اس سے بند ہو جا تا ہے ۔
(البدر جلددوم نمبر ۱۰ صفحہ ۷۷، مو رخہ ۲۷ ؍مارچ ۱۹۰۳ئ)
۱۸ ؍مارچ ۱۹۰۳ء
( مجلس قبل ازعشاء )
بعد مغرب گرمی محسوس کر کے حضرت اقدس نے اپنے احبا ب سے مشورہ کیا کہ اب موسم بدلا ہو ا ہے اس لیے اگر منا سب ہو تو اوپر چل بیٹھیں ،چنا نچہ احبا ب نے اس سے اتفا ق کیا اور اسی وقت تما م احبا ب اور حضر ت اقدس با لا ئی منزل میں تشریف لے گئے ۔
شہ نشین پر بیٹھ کر ابو سعید صاحب سے فر ما یا کہ
اگر آپ چلے گئے ہو تے تو اوپر کا جلسہ کیسے دیکھتے اور یہ کہا ں نصیب ہونا تھا ۔
اسی اثنا ء میں نواب صا حب تشریف لا ئے ۔حضر ت نے فر ما یا :۔