ایما ن لا یا۔یا چا ند پورا چودہویں کا ہے اور کوئی اس پر ایمان لا وے تو اسے کیا فا ئدہ ہو گا ؟ اور کس تعریف کا مستحق ہے ؟ ہا ں اگر اول شب کے چا ند پر جس کا نا م ہلا ل ہت کو ئی اسے دیکھ کر بتلا وے تو اس کی نظر کی تعریف کی جاوے گی اور جس کی نظر کم وپیش ہے وہ کھل جاویگی تو نشانوں می یہی اصول خدا نے رکھا ہے کہ ایک پہلو میں ایما ن سے فا ئدہ اٹھا ویں اور ایک پہلومیں عقل سے ورنہ ایمان ایمان نہیں رہتا ۔ایک مخفی امر کو عقل سے سوچکرقرائن ملا کر ما ن لینے کا نا م ایما ن ہے ۔ان لو گوں کی عقل موٹی ہے ۔ایسے نشان طلب کر تے ہیں جو کہ عادت اللہ کے خلاف ہیں ہم یہ پیش کر تے ہیں کہ جو سچامذہب ہو تا ہے اس میں امتیا ز ہو تا ہے جس قدر تا ئیدات اور خوارق خدا تعا لیٰ نے اسلا م کی تا ئیدمیں رکھے ہیں ۔وہ کسی دوسر ے مذہب کے لیے ہرگز نہیں ہیں ۔مگر یہ ان امورمیں مقابلہ چا ہتے ہیں جو کہ عادت اللہ کے خلاف ہیں ۔ دوسر ے خدا غلا م نہیں ہے کہ کسی تا بع ہو بلکہ وہخدا کے تا بع ہیں ۔
فیصلہ کا آسان طریق
ہم نے ان سے یہ چا ہا ہے کہ اس طرح سے فیصلہ کر لو کہ ہزاروں اعتراض جو تم لو گ کرتے ہو ان میں سے دواعتراض چن لو اگر وہ سچے نکل آویں تو با قی تمہارے سب سچے اور اگر وہ جھوٹے نکل آویں تو با قی سب جھوٹے ۔مگر ان لو گوں کو موت کا خوف نہیں ۔اگر عقل ہو تو لا زم ہے کہ وہ اسلا م کے سوائے کو ئی سچا پاک مذہب دکھلا ویں ۔اور طلا ق کی نسبت اعتراض ہے ہم کہتے ہیں کہ اچھا آج تک جس قدر طلا ق اسلام میں ہو ئی ہیں ان کی فہرست ہم سے لواور جس قدر نیوگ تم میں ہو اس کی فہرست ہمیں دو۔
مدارات اور مداہنہ میں فرق
فر ما یا کہ
مدارات اسے کہتے ہیں کہ نرمی سے گفتگو کی جاوے تا کہ دوسرے کے ذہن نشین ہو اور حق کا اس طرح اظہار کاکرنا کہ ایک کلمہ بھی با قی نہ رہے اور سب ادا ہو جاوے اور مداہنہ اسے کہتے ہیں کہ ڈرکر حق کو چھپا لینا ۔کھا لینا اکثر دیکھا جا تا ہے کہ لو گ نر می سے گفتگو کر کے پھر گر می پر آجا تے ہیںب ۔یہ منا سب نہیں ہے حق کو پورا پورا ادا کر نے کے واسطے ایک ہنر چا ہئیے ۔وہ شخص بہت بہا در ہے جو کہ ایسی خوبی ستے حق کو بیا ن کر ے کہ بڑے غصہ والے آدمی بھی سن لیویں ۔خدا ایسوں پر راضی ہو تا ہے ہا ں یہ ضرور یہے کہ حق گو سے لو گ را ضی نہ ہوں اگر چہ وہ نر می بھی کر ے مگر تا ہم درمیا ن میں ایسے بھی ہو تے ہیں جو اچھا کہنے لگتے ہیں ۔
(البدر جلد ۲ نمبر ۱۰ صفحہ ۷۵،۷۶ مو رخہ ۲۷ ؍مارچ ۱۹۰۳ئ)