نے صحیح قرار دیا ہے قماربا زی میں ذمہ داری نہیں ہو تی ۔دنیا کے کا روبار میں ذمہ داری کی ضرورت ہے
دوسرے ان تمام سوالوں میں اس کا امر کا خیال بھی رکھنا چاہئیے کہ قر آن شریف میں حکم ہے کہ بہت کھوج نکال کر مسائل نہ پوچھنے چاہئیں ۔مثلا اب کو ئی دعوت کھا نے جا وے اور اسی خیال میں لگ جا وے کہ کسی وقت حرام کا پیسہ ان کے گھر میں آیا ہو گا ۔پگر اس طرح تو آخر کا ردعوتوں کا کھا نا ہی بند ہو جا وے گا ۔خدا کا نا م ستار بھی ہے ورنہ دنیامیں عام طور پر راستباز کم ہو تے ہیں ۔مستورالحال بہت ہو تے ہیں ۔یہ بھی قرآن میں لکھا ہے
ولا تجسسوا (سورت الحجرات :۱۳)
یعنی تجس مت کیا کرو ورنہ اس طرح تم مشقت میں پڑوگے ۔
مجلس قبل ازعشاء
پنڈت نند کشورسناتن دھرمی سے گفتگو
پنڈت نند کشور صاحب جو کہ سناتن دھرم مذہب کے ایک عالم فاضل متجر لیکچرار ہیں حضرت اقدس کی ملا قات کے واسطے تشریف لا ئے ۔تے ہی حضرت صاحب سے سلا م علیکم اور مصافحہ کیا ۔ حضرت صاحب نے نسیم دعوت اورسناتن دھرم وغیرہ کی نسبت ان کی رائے دریا فت کی ۔ پنڈت صاحب نے کہا کہ ان کتب میں آپ نے ویسے ہی لکھا ہے جیسے انبیاء کا دستورہے خدا کے برگزیدہ بندوں سے گندے لفظ نکل ہی نہیں سکتے ۔آریہ لو گوں کی مثال انہوں نے یہ سی کہ جیسے کھاری چشمہ سے میٹھا پا نی نہیں نکل سکتا ۔اسی طرح وہ لوگ لکھ ہی کیس سکتے ہیں ۔
حضرت اقدس نے آریہ سماج کی نسبت فر ما یا کہ :۔
آریہ سماج
یہ لوگ با لکل حقیقت ایمان سے بے نصیب ہیں ۔ایمان تو عقلمندوں کی آزما ئش کے لیے ہے کہ کچھ عقل سے کا م لیوے اور کچھ ایمان سے ۔معجزات میں یہ عادت اللہ ہرگز نہیں ہے کہ ایسے کا م دکھلا ئے جا ویں جو کہ خدا کی عادت کے بر خلا ف دنیا میں ہو ں ۔مثلا سوال کر تے ہیں کہ سویا پچاس سال کے مردے آکر شہادت دیویں گو کہ یہ تو ہو سکتا ہے مگر سوال ہے کہ جو اس کے بعد قبول کر یگا اسے کیا فا ئد ہ ہوگا ؟ جب سب حقیقت کھل گئی اور سودوسوآدمی کی شہادت بھی مل ھئی تو اب کس کی عقل ما ری ہے کہ انکا ر کر ے نہ ہندونہ چمار کسی کو گنجا ئش ہی انکار کی نہیں رہتی ۔ہما رے ہاں لکھا ہے کہ اس قسم کا ایما ن فا ئدہ نہیںدیتا ۔اگر دن چڑھا ہو ا ار کو ئی کہے کہ میں دن پر