تو کچھ نہیں کرتا اور اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے اور دینے والا اس نیت سے نہیں دیتا کہ سود ہے تو وہ بھی سود میں داخل نہیں ہے وہ بادشاہ کی طرف سے احسان ہے ۔پیغمبر خدا کسی سے ایسا قرضہ نہیں لیا کہ ادائیگی کے وقت اُسے کچھ نہ کچھ زیادہ (نہ)دیدیا ہو ۔یہ خیال رہنا چاہیے کہ اپنی خواہش نہ ہو ۔خواہش کے بر خلاف جو زیادہ ملتا ہے وہ سُود میں داخل نہیں ہے ۔ سُود اور سُودر سُود ایک صاحب نے عر ض کیا کہ سیداحمدصاحب نے لکھا ہے اضعا نا مضعفتت (ال عمران :۱۳۱) کی ممانعت ہے فر ما یا کہ :۔ یہ با ت غلط ہے کہ سُود اور سُودر سُود کی ممانعت کی گئی ہے اور سودجا ئزرکھا ہے شریعت کا ہر گز یہ منشاء نہیں ہے یہ فقر ہ اسی قسم کا ہے جیسے کہا جا تا ہے کہ گنا ہ درگنا ہ مت کرتے جا و اس سے یہ مطلب نہیں ہو تا کہ گنا ہ ضرور کر و۔ اس قسم کا روپیہ جو کہ گو رنمنٹ سے ملتا ہے وہ اسی حا لت میں سود ہو گا جبکہ لینے والا اس خواہش سے روپیہ دیتا ہے کہ مجھ کو سود ملے ورنہ گو رنمنٹ جو اپنی طرف سے احسانا دیوے وہ سود میں داخل نہیں ہے ۔ رشوت کے روپیہ سے بنائی گئی جا یئداد ایک صاحب نے سوال کیا کہ اگر ایک شخص تا ئب ہو تو اس کے پا س جواول جا یئداد رشوت وغیرہ سے بنائی ہو اس کا کیا حکم ہے ۔فر ما یا :۔ شریعت کا حکم ہے کہ توبہ کرے تو جس جس کا وہ حق ہے وہ اسے پہنچایا جا وے ۔ ۱ ؎ رشوت اورہدیہ میں تمیز چا ہیئے ۔رشوت وہ مال ہے کہ جب کسی کی حق تلفی کے واسطے دیا یا لیا جا وے ورنہ اگر کسی نے ہما را ایک کا م محنت سے کر دیا ہے اور حق تلفی بھی کسی کی نہیں ہو ئی تو اس کو جو دیا جاوے گا ۔وہ اس کی محنت کا معاوضہ ہے ۔ انشورنس یا بیمہ انشورنس ۲؎ اور بمیہ پر سوال کیا گیا ۔فر ما یا کہ سود اور قما ربا زی کو الگ کر کے دوسرے اقراروں اور ذمہ داریوں کو شریعت