کے لیے خدا خود سہولت کر دیتا ہے ۔یہ تما م راستبازوں کا محبرب علاج ہے کہ مصیبت اور صعوبت میں خدا خود راہ نکال دیتا ہے
لوگ خدا کی قدر نہیں کرتے جیسے بھروسہ اُن کو حرام کے دروازے پر ہے ویسا خدا پر نہیں ہے خدا پر ایمان یہ ایک ایسا نسخہ ہے کہ اگر قدر ہو تو جی چاہیے کہ اَورعجیب نسخہ مخفی رکھنا چاہتے ہیں ویسے ہی ایسے مخفی رکھا جاوے۔میں نے کئی دفعہ بماریوں میں آزمایہ ہے کہ پیشاب باربار آرہا ہے دست بھی لگے ہیں۔آخر خدا سے دُعا کی ۔صبح کو الہام ہوا۔دُعا ء کَ مستجاب اس کے بعد ہی وہ کثرت جاتی رہی اور کمزوری کی جگہ طاقت آگئی ۔یہ خدا کی طاقت ہے خدا ایسا عجیب ہے کہ ان نسخوں سے بھی زیادہ قابلِ ودر ہے جو کیمیا وغیرہ کے ہوتے ہیں مجھے بھی ایک دفعہ خیال آیا کہ یہ تو چھپا نے کے قابل ہے پھر سوچا کہ یہ تو بخل ہے ایسی مفید شئے کا دنیا پر اظہار کرنا چاہیے کہ مخلوق الہٰی کو فائدہ حاصل ہو ۔یہی فرق اسلام اور دوسرے مذاہب کے خدا میں ہے۔انکا خدا بولتا نہیں۔خدا معلوم یہ بھی کیساایمان ہے ۔اسلام کا خدا جیسا پہلے تھا ویسے ہی اب بھی ہے۔نہ طاقت کم ہوئی نہ بوڑھا ہوا۔نہ کچھ اور نقص اس میں واقع ہوا۔ایسے خدا پر جس کا ایمان ہو وہ اگر آگ میں بھی پڑا ہو تو اُسے حوصلہ ہوتا ہے ۔ابراہیم ؑکو آگ میں ڈالا ہی تھا ۔ایسے ہی ہم بھی آگ میں ڈالے گئے۔ ۱ ؎ خون کا مقدمہ بنایا گیا ۔اگر اس میں ۵ یا دس سال کی قید ہو جاتی تو سب سلسلہ تباہ ہو جاتا ۔سب قوموں نے متفق ہو کر یہ آگ سلگائی تھی ۔کیا کم آگ تھی؟اس وقت سوائے خدا کے کون تھا ؟اور وہی الہام ہوئے جو کہ ابراہیم ؑ کو ہوئے تھے آخر میں الہام ہوا اِبراء اور تسلی دی کہ سب کچھ میرے ہاتھ میں ہے ۔
پراویڈنٹ فنڈ
ایک صاحب نے سوال کیا کہ ریلوے میں جو لوگ ملازم ہوتے ہیں ۔ان کی تنخواہ میں سے ایک اَنہ فی روپیہ کا ٹ کر رکھا جاتا ہے پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ روپیہ دیا جاتا ہیاور اس کے ساتھ کچھ زائد بھی وہ دیتے ہیں اس کا کیا حکم ہے ؟فرمایا کہ
شروع میں سُود کی یہ تعریف ہے کہ ایک شخص اپنے فائدہ کے لیے دوسرے کو روپیہ قرض دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے یہ تعریف جہاں صادق آوے گی وہ سود کہلاویگا ۔ ۲ ؎ لیکن جس نے روپیہ لیا ہے اگر وہ وعدہ وعید