سُود کی حرمت ایک نے سوال کیا کہ ضرور ت پر سوری روپیہ لے کر تجا رت وغیرہ کر نے کا کیا حکم ہے ۔فر ما یا :۔ حرام ہے ۔ہا ں اگر کسی دوست اور تعا رف کی جگہ سے روپیہ لیا جا وے اور کو ئی وعداہ اس کو زیا دہ دینے کا نہ ہو نہ اس کے دل زیادہ لینے کا خیا ل ہو ۔مگر اگر مقروض اصل سے کچھ زیا دہ دیدے تو وہ سود نہیں ہو تا بلکہ یہ تو ھل جذائالاحسان الا لاحسان (الرحمن :۶۱) ہے ۔ اس پر ایک صاحب نے سوال کیا کہ اگر ضرورت سخت ہواور سوائے سود کے کا م نہ چل سکے تو پھر ؟ اس پر حضرت اقدس نے فر ما یا کہ :۔ خدا تعا لیٰ نے اس کی حرمت مو منوں کے واسطے مقررکی ہے اور مومن وہ ہوتا ہے جو ایما ن پر قائم ہو اللہ تعا لیٰ اس کا متو لی اور متکفل ہو تا ہے ۔اسلام میں کروٹ ہا ایسے آدمی گذرے ہیں جنہوں نے نہ سود لیا نہ دیا آخر ان کے حوائج بھی پورے ہو تے رہے کہ نہیں ؟ ۱؎ خدا تعا لیٰ فر ما تا ہے کہ نہ لو نہ دوجو ایسا کر تا ہے وہ گویا خدا کے سا تھ لڑائی کی تیا ری کر تا ہے ایما ن ہو تو اس کا صلہ خدا بخشتا ہے ایما ن بڑی با بر کت شئے ہے الم تعلم ان اللہ علی کل شیی ئقدیر ۔(البقرہ : ۱۰۷) اگر اسے خیا ل ہو کہ پھر کیا کرے ؟ تو کیا خدا کا حکم بھی بیکا رہے ؟ اس کی قدرت بہت بڑی ہے سود تو کو ئی شئے ہی نہیں ہے ۔اگر اللہ تعا لیٰ کا حکم ہو تا کہ زمین کا پا نی نہ پیا کروتو وہ ہمیشہ با رش کا پا نی آسما ن سے دیا کرتا اسی طرح ضرورت پر وہ خود ایسی راہ نکال ہی دیتا ہے کہ جس سے اس کی نا فر ما نی بھی نہ ہو جب تک ایما ن میں میل کچیل ہو تا تب تک یہ ضعف اور کمزوری ہے ۔کو ئی گنا ہ چوٹ نہیں سکتا جب تک خدا نہ چھڑاوے ورنہ انسا نتو ہر ایک گنا ہ پر یہ عذرپیش کر سکتا ہے کہ ہم چھوڑ نہیں سکتے اگر چھوڑ یں تو گذارہ نہیں چیتا ۔ دکا نداروں عطا روؓ کو دیکھا جا وے کہ پر انا مال سا لہا سا ل تک بیچتے ہیں ۔دھوکا دیتے ہیں ۔ملازم پیشہ لوگ خوری کر تے ہیں اور سب یہ عذرکرتے ہیں ۳ ؎ کہ گذارہ نہیں چلتا۔ان سب کو اگر اکٹھا کر کے نتیجہ نکالا جاوے تو پھر یہ نکلتا ہے کہ خدا کی کتا ب پر عمل ہی نہ کرو کیونکہ گذارہ نہیں چلتا ۔حالانکہ مو من