میں فلا ں فلاں عیب ہیں تو پھر عورت خدا سے کیا ڈرے گی ۔جب تقویٰ نہ ہو تو ایسی حا لت میں اولا د بھی پلیدپیدا ہو تی ہے ۔اولا د کا طیب ہو نا تو طیبا ت کا سلسلہ چا ہتا ہے ۔اگر یہ نہ ہو تو پھر اولاد خراب ہو تی ہے ۔اس لیے چا ہیئے کہ سب تو بہ کریں۔ اور عورتوں کو اپنا اچھا نمونہ دکھلاویں۔عورت خاوند کی جا سوس ہو تی ہے۔ وہ اپنی بد یا ں اس سے پوشیدہ نہیں رکھ سکتا ۔نیز عورتیں چھپی ہو ئی دا نا ہو تی ہیں ۔یہ نہ خیا ل کر نا چا ہیئے کہ وہ احمق ہیں۔ وہ اند رہی اندر تمہا رے سب اثر وں کو حا صل کر تی ہیں ۔جب خاوند سیدھے رستہ پر ہو گا تو وہ اس سے بھی ڈریگی اور خدا سے بھی ۔ایسا نمونہ دکھا نا چا ہیئے کہ عورت کا یہ مذہب ہو جا وے کہ میر ے خاوند جیسا اور کو ئی نیک بھی دنیا میں نہیں ہے ۔اور وہ یہ اعتقا دکرے کہ یہ با ریک سے با ریک نیکی کی رعایت کر نے والا ہے ۔جب عورت کا یہ اعتقا دہو جا ویگا تو ممکن نہیں کہ وہ خود نیکی سے با ہر رہے ۔سب انبیا ء اولیا ء کی عورتیں نیک تھیں اس لیے کہ ان پر نیک اثر پڑتے تھے ۔جب مرد بد کا ر اور فا سق ہو تے ہیں تو ان کی عورتیں بھی ویسی ہی ہو تی ہیں ۔ایک چورکی بیو ی کو یہ خیا ل کب ہو سکتا ہے کہ میں تہجد پڑھوں ۔خاوند تو چوری کر نے جا تا ہے تو کیا وہ پیچھے تہجد پڑھتی ہے ؟
الرجال توامون علی النسائ (نساء :۳۶)
اسی لیے کہا ہے کہ عورتیں خاوندوں سے متا ثر ہو تی ہیں جس حد تک خاوند صلا حیت اور تقویٰ بڑھا وے گا کچھ حصہ اس سے عورتیں ضرور لیں گی ۔ویسے ہی اگر وہ بد معاش ہو گا تو بد معاشی سے وہ حصہ لیں گی ۔
(البد رجلد ۲ نمبر ۱۰ صفحہ ۷۳۔۷۴۔۷۵ مو رخہ ۲۷ ؍مارچ ۱۹۰۳ئ)
۱۶مارچ ۱۹۰۳ئ
خواب اور اسکی تعبیر
سیرمیںبعض احبا ب نے اپنے اپنے رویا سنائے آپ نے فر ما یا کہ خواب بھی ایک اجمال ہو تا ہے اور اسکی تعبیر صر ف قیاسی ہو تی ہے ۔
ایک رویا اور ایک الہام
رات کو میں نے خواب دیکھا کہ ایک شخص اپنی جما عت میں سے گھوڑے پر سے گر پڑا پھر آنکھ کھل گئی سوچتا رہا کہ کیا تعبیر کریں ۔قیاسی طور پر جو با ت اقرب ہو وے لگا ئی جاسکتی ہے کہ اس اثنا ء میں غنود گی غا لب ہو ئی اور الہام ہو ا
استقامت میں فرق آگیا ‘‘
ایک صاحب نے کہا کہ وہ کو ن شخص ہے حضرت نے فر ما یا کہ
معلوم تو ہے مگر جب تک خدا کا اذن نہ ہو میں بتلا یا نہیںکر تا میرا کا م دعا کر نا ہے ۔