اگر آپ نے ایک روٹی پر پڑھا ہو تا تو ہم ہزار پر پڑھتے ہا ں آنحضرت ﷺ نے خوش الحا نی ۱ ؎ سے قر آن سنا تھا اور آپ اس پر روئے بھی تھے ۔جب یہ آیت آئی وجئنا بک علی ھولا ئشھیدا (النسا ء :۴۲) آپ روئے اور فر ما یا بس کر میں آگے نہیں سن سکتا ۔آپ کو اپنے گواہ گذرنے پر خیال گذرا ہو گا ۔ہمیں خودخواہش رہتی ہے کہ کو ئی خوش الحان حافظ ہو تا قرآن سنیں ۔ آنحضرت ﷺ نے ہر ایک کا م کا نمونہ دکھلا دیا ہے ہ ہمیں کرنا چاہیئے ۔سچے مو من کے واسطے کا فی ہے کہ دیکھ لیوے کہ یہ کا م آنحضرت ﷺ نے کیا ہے ک نہیں ۔اگر نہیں کیا تو کر نے کا حکم دیا ہے یا نہیں ؟حضرت ابر اہیم آپ کے جدا مجد تھے اور قابل تعظیم تھے کیا وجہ کہ آپ نے ان کا مولودنہ کروایا ؟ اشعار اور نظم پڑھنا نظم تو ہماری اس مجلس میں بھی سنائی جا تی ہے آنحضرت ﷺ نے بھی ایک دفعہ ایک شخص خوش الحان کی تعریف سنکر اس سے چندایک اشعارسنے پھر فرما یا کہ رحمک اللہ یہ لفظ آپ جسے کہتے تھے وہ جلد شہید ہوجا تا چنانچہ وہ بھی میدان میں جا تے ہی شہید ہو گیا ۔ایک صحاؓبی نے آنحضرت ﷺ کے بعد مسجد میں شعر پڑھے۔حضر ت عمرؓ نے روکا کہ مسجدمیں مت پڑھو ۔وہ غصہ میں آگیا اور کہا کہ تو کو ن ہے کہ مجھے روکتا ہے میں نے اسی جگہ اور اسی مسجد میں آنحضرت ﷺ کے سامنے اشعار پڑھے تھے اور آپ نے مجھے منع نہ کیا ۔حضرت عمرؓ خاموش ہو گئے۔ شعر کہنا ایک شخص کا اعتراض پیش ہو ا کہ مرزا صاحب شعرکہتے ہیں ۔فر ما یا :۔ آنحضرت ﷺ نے بھی خود شعر پڑھے ہیں ۔پڑھنا اور کہنا ایک ہی با ت ہے ۔پھر آنحضرت ﷺ کے صحابی شاعر تھے ۔حضر ت عائشہ ؓ ۔اما حسن ؓاور اما م حسین ؓ کے قصائد مشہور ہیں ۔حسان بن ثابت ؓ نے آنحضرت ﷺ کی وفا ت پر قصیدہ لکھا ۔ سید عبد القادر صاحب نے بھی قصائد لکھے ہیں ۔کسی صحابیؓ کا ثبوت نہ دے سکو گے کہ اس نے تھوڑا یا بہت شعر نہ کہا ہو مگر آنحضرت ﷺ نے کسی کو منع نہ فرما یا ۔قر آن کی بہت سی آیا ت شعروں سے ملتی ہیں ۔