انبیا ء کی پرستش کرو بلکہ سوچو اور سمجھو ۔خدا تعا لیٰ بارش بھیجتا ہے ہم تواس پر قادر نہیں ہو تے مگر با رش کے بعد کیسی سرسبزی اور اشادا بی نظر آتی ہے ۔اسی طرح انبیاء کا وجود بھی با رش ہے ۱؎
پھر دیکھو کہ کوڑی اور موتی دونو دریا ہی سے نکلتے ہیں پتھر اور ہیرہ بھی ایک پہاڑ سے نکلتا ہے مگر سب کی قیمت الگ الگ ہو تی ہے اسی طرح خدا نے مختلف وجود بنائے ہیں ۔انبیاء کا وجود اعلیٰ ردجہ کا ہو تا ہے اور خدا کی محبت سے بھرا ہوا ۔اس کو اپنے جیسا سمجھ لینا اس سے بڑھ کر اور کیا کفر ہو گا ۔ بلکہ خدا نے وعدہ کیا ہے کہ جو ایک ایسا مقام عطا ہو گا جس میں صرف میں ہی ہو ں گا ۔ایک صحا بی روپڑا ۔کہ حضور مجھے جو آپ سے محبت ہے سچی محبت نہیں رکھتا ۔ ۲ ؎ میں نے جہاں تک دیکھا ہے ۔وہابیوں میں تیزی اور چالا کی ہو تی ہے ۔خاکساری اور انکساری تو ان کے نصیب نہیں ہو رتی یہ ایک طرح سے مسلمانوں کے آریہ ہیں ۔وہ بھی الہام کے منکر یہ بھی منکر ۔جب تک انسا ن برا ہ راست یقین حاصل نہ کرے قصص کے رنگ میں ہرگز خدا تعا لیٰ تک نہیں پہنچ سکتا جو شخص خدا تعا لیٰ پر پرا ایمان رکھتا ہے ضرور ہے کہ اس پر کچھ تو خدا کا رنگ آجا وے ۔
دوسر ے گروہ میں سوائے قبرپر ستی اور پیرپرستی کے کچھ روح با قی نہیں ہے ۔قرآن کو چھوڑدیا ہے ۔خدا مے امت وسطا کہا تھا ۔وسط سے مراد ہے ۔میانہ رو۔اور وہ گروہ نے چھوڑدیا ۔پھر خدا فر ما تا ہے
ان کنتم تحبون اللہ فا تبعونی (ال عمران : ۳۲)
کیا ۳؎ آنحضرت ﷺ نے کبھی روٹیوں پر قر آن پڑھا تھا ؟