جو طریق آج کل پنجا ب میں نماز کا ہے میرے نزدیک ہمیشہ سے اس پر بھی اعتراض ہے ملا ں لوگ صرف مقررہ آدمیوں پر نظر کرکے جماعت کراتے ہیں ایسا مام شرعا نا جا ئزہے ۔صحا ؓبہ میں کہیں نظیر نہیں ہے کہ اس طر ح اجرت پر امامت کرائی پھر اگر کسی کو مسجد سے نکالا جاوے تو چیف کو رٹ تک مقدمہ چلتا ہے ۔یہانتک کہ ایک دفعہ ایک ملاں نے نماز جنازہ کی ۶یا ۷ تکبیریں کہیں ۔لوگوں نے پوچھا تو جواب دیاکہ یہ کام روز مرہ کے محاورہ سے یادرہتا ہے کبھی سال میں ایک آدمی مرتا ہے تو کیسے یادرہے جب مجھے یہ بات بھول جا تی ہے کہ کوئی مرا بھی کرتا ہے تو اس وقت کوئی میت ہو تی ہے ۔
اسی طرح ایک ملا یہاں آکر رہا ۔ہمارے میرزا صاحب نے اسے محلے تقسیم کر دیئے ایک دن وہ روتا ہوا آیا کہ مجھے جومحلہ دیا ہے ۔اس کے آدمیوں کے قدچھوٹے ہیں اس لیے ان کے مرنے پر جو کپڑا ملیگا اس سے چادر بھی نہ بنے گی ۔
اس وقت ان لوگوں کی حالت بہت ردی ہے صوفی لکھتے ہیں کہ مردہ کا مال کھانے سے دل سخت ہوجاتا ہے ۔
مولُودخوانی
ایک ۱ ؎ شخص نے مولودخوانی پر سوال کیا ۔فرمایا :۔
آنحضرت ﷺ کا تذکر ہ بہت عمدہ ہے بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ انبیا ء اور اولیا ء کی یا د سے رحمت نازل ہو تی ہے اور خودخدانے بھی انبیاء کے تذکر ہ کی تر غیب دی ہے ۲؎لیکن اگر اس کے ساتھ ایسی بدعات مل جا ویں جن سے تو حید میں خلل واقع ہو تو وہ جا ئز نہیں ۔خدا کی شان خدا کے ساتھ اور نبی کی شان کے ساتھ رکھو۔ آج کل مولویوں میں بدعت کے الفاظ زیادہ ہو تے ہیں اور وہ بدعات خدا کے منشاء کے خلاف ہیں ۔اگر بدعات نہ ہوں تو پھر تو وہ ایک وعظ ہے ۔ آنحضرت ﷺکی بعثت ،پیدائش اور وفات کا ذکر ہوتوموجب ثواب