اخلا ق حا صل کر لیتی ہے ۔
ایک شخص کا ذکر ہے کہ وہ ایک دفعہ عیسائی ہوا تو عورت بھی اس کے ساتھ عیسائی ہو گئی ۔شراب وغیرہ اول شروع کی پھر پر دہ بھی چھوڑفیا ۔غیر لو گوں سے بھی ملنے لگی ۔خاوند نے پھراسلام کی طرف رجوع کیا تو اس نے بیوی کو کہا تو بھی میرے ساتھ مسلمان ہو اس نے کہا کہ اب ،میرا مسلمان ہونا مشکل ہے ۔یہ عادیتں جو شراب وغیرہ اور آزادی کی پڑگئی ہیں یہ نہیں چھوٹ سکتیں ۔
(البدا جلد ۲ نمبر ۱۰صفحہ ۷۳مورخہ ۲۷ مارچ ۱۹۰۳ئ)
۱۵ مارچ ۱۹۰۳ئ
آریوں کے متعلق لٹریچر کی اشاعت
سیر کے دوران کتابوں کی کی اشاعت کے متعلق خلیفہ صاحب سے فرمایا کہ انکی اشاعت کرو ایسا نہ ہو کہ صندوقوں میں پڑی رہیں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آریہ لوگ ان کتابوں کے جواب میں ایک گالیوں کا طومار لکھیں گے کیونکہ جواب دینے کی تو ان میں طاقت نہیں ہوتی۔صرف گند ہی گند بولیں گے۔ہم نے تو نہایت نرم الفاظ میں لکھی ہیمگر یہ بہتان لگائے بغیرنہ رہیں گے شاید ایک اَور کتاب پھر اس کے جواب میں لکھنی پڑے۔دیانندکو اسلام کی خبر نہیں تھی مگر چونکہ اس نے کتابیں ناگری زبان میں لکھیں اس لیے لوگوں کو اس کی ندہ زبانی کی خبت نہیں ہے لیکھرام نے اردو میں لکھیں اس کی خبر سب کو ہوئی۔
میرا اصول ہے کہ جو شخص حکمت اور معرفت کی باتیں لکھنا چاہیے وہ جوش سے کام نہ لیوے و رنہ اثر نہ ہوگا ۔ہاں بعضامر حقہ بر محل عبارت میں لکھنے پڑتے ہیں مگر الحقُ مُرُ معاملہ ہو کر اس میں مجبور ہو جاتے ہیں میرے خیال میں سناتن دھرم اونسیم دعوت وغیرہ لاہور ،بمبئی ،کشمیر وغیرہ شہروں میں آریوں کے پاس ضرور روانہ کرنی چاہیئں اگر شائع نہ ہو ں تو پھر وہی مثال ہے ۔
زبہر نہادن چہ سنگ وچہ زر
امامت مسجد اور ختم وغیرہ
ایک سوال پر فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے پاک کلام قرآن کو ناپاک باتوں سے ملا کر پڑھنا بے ادبی ہے وہ تو صرف روٹیوں کی غرض سے مُلّاں لوگ لمبی لمبی سورتیں پڑھتے ہیں کہ شوربا اور روٹی زیادہ ملے۔
ولا تشتروابا یا تی ثمنا قلیلا (البقرہ : ۴۲)
یہ کفر ہے ۔