اگر مرد کو ئی کجی یا خا می اپنے اندر رکھے گا تو عورت ہر وقت کی اس پر گواہ ہے اگر وہ ثبوت لے کر گھر آیا ہے تو اس کی عورت کہے گی کہ جب خاوند لا یا ہے تو میں کیوں حرام کہوں ۔غرضکہ مرد کااثر عورت پر ضرور پڑتا ہے اور وہ خود ہی اسے خبیث اور طیب بنا تا ہے اسی لیے لکھا ہے۔ الخبیثا ت لخبیثین والطیبات للطیبن ۔ (نور:۲۷) اس میں یہی نصیحت ہے کہ تم طیب بنوورنہ ہزارٹکریں ما روکچھ نہ بنے گا ۔جو خدا سے خود نہیں ڈرتا تو عورت اس سے کیسے ڈرے ؟ نہ ایسے مو لویوں لا وعظ اثر کر تا ہے نہ خاوند کا ۔ہر حال میں عملی نمونہ اثر کیا کر تا ہے بھلا جب خاوند روت کو اٹھ اٹھ کر دعا کرتا ہے روتا ہے تو عورت ایک دودن تک دیکھے گی آخر ایک دن اسے بھی خیا ل آوے گا اور ضرور متاثر ہو گی ۔عورت میں متا ثر ہو نے کا مادہ بہت ہو تا ہے یہی وجہ ہے کہ جب خاوند عیسائی وغیر ہ ہو تے ہیں تو عورتیں ان کے ساتھ عیسائی وغیر ہ جا تی ہیں ان کی درستی کے واسطے کو ئی مدرسہ بھی کفا یت نہیں کر سکتا خاوند کا عملی نمونہ کفا یت کرتا ہے۔خاوند کے مقابلہ عورت کے بھائی بہن وغیر ہ کا بھی کچھ اثر اس پر نہیں ہو تا ۔ خدا نے مردعورت دونوکا ایک ہی وجود فر ما یا ہے ۔ یہ مردوں کا ظلم ہے کہ وہ اپنی عورتوں کو ایسا موقع دیتے ہیں۔کہ وہ ان کا نقص پکڑیں ۔ان کو چا ہیئے کہ عورتوں کو ہر گز ایسا موقعہ نہ دیں کہ وہ یہ کہہ سکیں کہ تو فلاں بدی کر تا ہے بلکہ عورت پکڑیں مار مار کر تھک جا وے اور کسی بدی کا پتہ اسے مل ہی نہ سکے تو اس وقت اس کو دینداری کا خیال ہو تا ہے اور وہ دین کو سمجھتی ہے ۱؎ مر د ۲ ؎ اپنے گھر کا امام ہو تا ہے پس اگر وہی بد اثر قائم کر تا ہے تو کس قدر بد اثرپڑنے کی امید ہے مرد کو چاہیئے کہ اپنے قویٰ کو بر محل اورحلال موقعہ پر استعمال کرے مثلا ایک قوت غضبی ہے جب وہ اعتدال سے زیا دہ ہو تو جنون کا پیش خمیہ ہو تی ہ جنون میں اور اس میں بہت تھوڑا فر ق ہے جو آدمی شدید الغضب ہو تا ہے اس سے حکمت کا چشمہ چھین لیا جا تا ہے بلکہ اگر کو ئی مخا لت ہو تو اس سے بھی مخلوب الغضب ہو کر گفتگونہ کرے۔ مرد کی ان تمام با تو ں اور اوصاف کو عورت دیکھتی ہے وہ دیکھتی ہے کہ میر ے خاو ند میں فلا ں فلاں اوصاف تقویٰ کے ہیں جیسے سخاوت ۔حلم ۔صبر اور جیسے اسے پر کھنے کا موقعہ ملتا ہے وہ کسی دوسرے کو نہیں مل سکتا اسی لیے عورت کو سارق بھی کہا ہے کیونکہ یہ ابدرہی اندراخلاق کی چوری کر تی رہتی ہے حتیٰ کہ آخر کا ر ایک وقت پورا