۱۴مارچ ۱۹۰۳ئ؁ حکا م کو نیکی کی تلقین کرنی چاہیئے نماز عشاء قبل مفتی محمد صادق صاحب نے اخبار سول ملڑی میں طاعون کا مضمون پڑھ کر سنایا ۔اس مضمون کو سنکر حضرت اقدس نے فر ما یا کہ :۔ یہ لوگ اللہ تعا لیٰ کا لفظ ہرگز منہ پر نہیں لائے حالا نکہ اگر حاکم منہ سے ایک بات نکلتی ہے تو ہزاروں آدمیوں پر اس کا اثر ہو تا ہے ۔بٹالہ کا ذکر کہ ایک دفعہ ایک اکسڑ ااسسٹنٹ مکشنرجو کہ ایک دیسی آدمی تھا اس کے منہ سے یہ بات نکلی کہ نماز پڑھنی چا ہیئے ۔اس پر بہت سے مسلمانوں نے نماز شروع کردی ۔ اسی طرح کبھی گورنمنٹ کی طرف سے یہ تاکیدہو کہ لوگ خدا کی طرف رجوع کریں تو دیکھئے پھر لوگوں کی کیا تبدیلی ہو تی ہے مگر اس وقت امر اء لوگ ایسے فسق وفجورمیں مبتلا ہیں کہ گویا یہ ان کے نطفہ کا ایک جزوبن گیا ہے ۔ عورتو ںکے حقوق اس کے بعد مفتی صاحب نے ایک مضمون سول ملڑی گزٹ سے سنایا جو کہ اسلامی عورتوں کے حقوق پرتھا ۔اس پر حضرت اقدس نے فر ما یا کہ :۔ ابھی کچھ دن ہو ئے کہ آنحضر ت ﷺ کی شان میں ایک گندہ مضمون سنایا گیا تھا اب خدا تعا لیٰ نے اس کے مقابلہ پر ایک فرحت بخش مضمون بھیج دیا ہے خدا تعا لیٰ کا فضل ہے کہ ہر ہفتہ ایک نہ ایک با ت ایسی نکل آتی ہے جس سے طبیعت کو ایک تر وتا ز گی مل جا تی ہے اس مضمون کا خلا صہ یہ تھا کہ اسلام میں عورتوں کو وہی حقوق دئے گئے ہیں کو کہ مردوں کو دئے گئے ہیں حتیٰ کہ اسلامی عورتوں میں پاکیزہ اور مقدس عورتیں بھی ہو تی ہیں اور ولیہ بھی ہو تی ہیں اور ان سے خارق عادت امور سرزدہوتے ہیں اور جو لوگ اسلام پر اس بارہ میں اعتراض کر تے ہیں ۔وہ غلطی پر ہیں ۔اس پر حضرت اقدس نے عورتوں کے بارے میں فرمایا کہ :۔ عورتوں کی اصلاح کا طریق مر د اگر پا رسا طبع نہ ہو تو عورت کب صالحہ ہو سکتی ہے ۔ہاں اگر مرد خودصالح بنے تو عورت بھی صالحہ بن سکتی ہے قول سے عورت کو نصیحت نہ دینی چا ہیئے بلکہ فعل سے اگر نصیحت دی جاوے تو اس کا اظر ہو تا ہو تا ہے عورت تو درکناراور بھی کون ہے جو صرف قول سے کسی کی ما نتا ہے ۔