۱۳ مارچ ۱۹۰۳ئ
نظر آئے گی دنیا کو تیرے اسلام کی رفعت
مسیحا کا بنے گا جب یہاںمنار ۔ یا اللہ !
منار ۃ ا لمسیح کی بنیادی اینٹ
بعد نما ز جمعہ حضر ت حجتہ اللہ المسیح الموعود علیہ الصلٰوت واسلام کے حضور ہما رے مکر م دوست حکیم فضل الہیٰ صاحب لا ہو ری ۔مرزا خدا بخش صاحب ۔ شیخ مولا بخش صاحب ۔قاضی ضیا ئالدین صاحب وغیرہ !احباب نے عر ض کی کہ حضورمنار المسیح کی بنیادی اینٹ حضور کے دست مبارک سے رکھی جاوے تو بہت ہی منا سب ہے ۔فر ما یا کہ :۔
ہمیں تو ابھی تک معلوم بھی نہیں کہ آج اس کی بنیاد رکھی جاوے گی ۔اب آپ اینٹ لے آئیں میں اس پرد عا کروں گا اور پھر جہاںمیں کہوں وہاں آپ جا کر رکھدیں ۔چنا نچہ حکیم فضل الہیٰ صاحب اینٹ لے آ ئے ۔اعلٰحضرت نے اس کو ران مبارک پر رکھ لیا ۔اور بڑی دیر تک آپ نے لمبی دعا کی معلوم نہیں کہ آپ نے کیسی کیسی اور کس کس جوش سے دعائیں اسلام کی عظمت وجلا ل کے اظہار اور اس کی روشنی کے کلاقطاع واقطارعالم میں پھیل جا نے کی ہو ں گی ۔وہ وقت قبولیت دعا کا معلوم ہوتا تھا ۔جمعہ کا مبارک دن اور حضرت مسیح مو عود علیہ اسلام منار المسیح کی بنیادی اینٹ رکھنے سے پہلے اس کے لیے دلی جوش کے ساتھ دعا ئیں مانگ رہے ہیں ۔دعا کے بعد آپ نے اس انیٹ پر دم کیا اور حکیم فضل الہیٰ صاحب کو دی کہ آپ اس کومنار المسیح کے مغربی حصہ میں رکھ دیں ۔ غرض اس عظیم الشان مینار کی بنیاد کے برگز ید ہ ماموراور مسیح ومہدی علیہ اسلام کے ہا تھ سے ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ئ کو رکھدی گئی ۔
(الحکم جلد۷ نمبر ۱۰صفحہ ۴ مورخہ ۷؍۱مارچ ۱۹۰۳ئ)
حجر ہ دعا
بعد نمازجمعہ ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ئ کو حضر ت اقدس نے تجویز فر ما یا کہ :۔
چونکہ بیت الفکرمیں اکثر مستورات وغیرہ اور بچے بھی آجا تے ہیں اور دعا کا موقعہ کم ملتا ہے اس لیے ایک حجر ہ اس کے ساتھ تعمیر کیا جا وے۔ جس میں صرف ایک آدمی کے نشست کی گنجا ئش ہواور چارپائی بھی نہ بچھ سکے تا کہ اس میں کو ئی اور نہ آسکے ۔اس طرح سے مجھے دعا کے لیے عمدہ وقت اور موقعہ مل سکے گا ۔ ۱؎