دیکھوابوالحسن خرقانی ۔بایزید بسطامی یا شیخ عبد القادر جیلانی صاحب رحمتہ اللہ علیم اجمعین وغیرہ یہ سب خداتعالیٰ کے مقر ب تھے اورانہوں نے بھی شریعت ہی کی پا بندی سے یہ درجہ پا یا تھا ۔ نہ کہ کو ئی شریعت بنا کر ۔جیسا کہ آج کے گدی نشین کر تے ہیں یہی نما ز تھی اور یہی روزے تھے مگر انہوں نے اس کی حقیقت اور صل غرض کو سمجھا ہو ا تھا بات یہ تھی کہ انہوں نے نیکی کی مگر سنوار کر ۔انہوں نے اعمال کو بیگا ر کے طور پر پورانہ کیا تھا بلکہ صدق اور وفا کے رنگ میں ادا کرتے تھے سوخدا نے ان کے صدق وسداد کو ضائع نہ کیا ۔خدا کسی کا احسان اپنے اوپر نہیں رکھتا وہ ایک پیسی کے بدلے میں جب تک ہزار نہ دے تب تک نہیں چھوڑتا ۔پس جب کسی انسان میں وہ برکات اور نشانات نہیں ہیں ۔ ۱؎ اور وہ خدا کی محبت اور تقویٰ کادعویٰ کرتا ہے ۔خدا پر الزام نہیں لگا تا بلکہ اپنا گندظاہر کر تا ہے ۔خدا کی جناب میں بخل ہرگز نہیں ۔پس کو شش کرو کہ اس کی رضا کے موافق عمل درآمد کر سکو ۔اگر مصائب کے وقت میں تم مومن ہواور خدا تعا لیٰ سے صلح کر نے والے اور اس کی محبت میں آگے قدم بڑھا نیوالے ہو تو وہ رحمت ہے تمہا رے واسطے ۔کیونکہ خدا قادر ہے کہ آگ کو گلزار کردے اور اگر تم فادق ہو تو ڈروکہ آگ ہے جو بھسم کر نے والی ہے اور قہر اور غضب ہے جو نیست ونابود کر نے والا ہے فقط
(الحکم جلد ۷نمبر ۱۱صفحہ ۹۔۱۳ مورخہ ۲۴ ی؍مارچ ۱۹۰۳ئ)
۱۱ مارچ ۱۹۰۳ئ
(قبل ازعشائ)
عشاء سے قبل ایک شخص نے خواب بیا ن کی کہ کا ن میں اس نے کچھ با ت سنی ہے اس کی تعبیر میں فرما یا کہ :۔
داہنا کا ن دین ہو تا ہے اور با یا ں دنیا ۔کا ن میں با ت کا ہو نا بشا رت پر محمول کیا جا تا ہے
پھر ایک ذکر فر ما یا کہ :۔
جو خداکی طرف رجوع کرتا ہے ایک دن کا میا ب ہو ہی جا تا ہے ہا ں تھکے نہ ۔کیونکہ خدا کے واسطے لہریں ہو تی ہیں جیسے باد نسیم چلتی ہے۔ ویسے رحمت کی نسیم بھی اپنے وقت پر چلا کر تی ہے ۔انسا ن کو ہمیشہ تیا ررہنا چا ہیئے ۔ (البدا جلد ۲ نمبر ۹ صفحہ ۶۸ مورخہ ۲۰ مارچ ۱۹۰۳ئ)