اور خدمات اس باغ کے لیے جسمانی طورسے ہیں وہی اس توبہ کے درخت کے واسطے روحانی طور پرہیں پس اگر توبہ کے درخت کا پھل کھا نا چاہوتو اس کے متعلق قوانین اور شرایط کو پورا کرو ورنہ بے فائدہ ہو گا ۔
یہ خیال نہ کرو کہ توبہ کرنا مرنس ہو تا ہے ۔خدا قلیل شئے سے خوش نہیں ہو تا اور نہ وہ دھوکہ کھاتا ہے ۔دیکھواگر تم بھوک کو دورکرنے کے لیے ایک لقمہ کھا نے کا کھا و یا پیاس کے دور کرنے کے لیے ایک قطرہ پانی کا پیوتو ہرگزتمہاری مقصد براری نہ ہو گی ۔ایک مرض کے دفع کرنے کے واسطے ایک طبیب جو نسخہ تجویزکرتا ہے جب تک اس کے مطابق پوراپورا عمل نہ کیا جاوے تب اس کے فائدہ کی امید امر موہوم ہے ۲؎ اور پھر طبیب پر الزام ۔غلطی اپنی ہی ہے اسی طرح توبہ کے واسطے مقدار ہے اور اس کے بھی پر ہیز ہیں ۔بدپر ہیز بیمار تندرست نہیں ہو سکتا ۔
خدا سے صلح پیدا کرو
اب طاعون کے متعلق اللہ تعا لیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرما یا کہ
انی احافظ کل من فی الدار الا الذین علواباستکبار۔
دیکھو خدا تو سب کا خداہے مگر اس کے تعلقات خاص خاص کے ساتھ خاص خاص ہیں ۔جتنی ۳؎ جتنی کو ئی اس سے صلح کر تا ہے اتنا ہی وہ اس کی حفاظت کرتا ہے ۔تم میں سے ہر ایک کو بھی وہ آواز آسکتی ہے ۔جو مجھے آئی ۔اگر تم سچی تبدیل اور اس سے صلح پیدا کرو ۔خدا بخیل نہیں مگر ہا ں اس نے ایک اندازہ رکھا ہو ا ہے جب تک اس تک انسا ن نہ پہنچے تو وہ کا مل نہیں ہو تا اور نہ اس پر و ہ فیض جا ری کیا جا تا ہے ۔ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شرابی کو اگر پوری مقدار شراب کی نہ دی جاوے تب تک وہ بہیوش نہیں ہو سکتا ۔اسی طرح جب اس انتہا ئی درجہ محبت تک ترقی نہ کی جاوے تب تک لا حا صل ہو تا ہے قانوننن قدرت جس طرح جسمانی چیزوں کے واسطے ہے ایسے ہی روحانی امور کے واسطے بھی ہے ۔