بسر کرواتا ۔ان کی زندگی شاہا نہ زندگی ہو تی ۔ہر وقت ان کے لیے عیش وطرب کے سامان مہیاکئے جا تے مگر اس نے ایسا نہیں کیا ۔اس میں بڑے اسراراور رازنہاں ہوتے ہیں ۔دیکھووالدین کو اپنی لڑکی کیسی پیاری ہو تی ہے بلکہ اکثر لڑکوں کی نسبت زیادہ پیاری ہو تی ہے مگر ایک وقت آتا ہے کہ والدین اس کو اپنے سے الگ کر دیتے ہیں وہ وقت ایسا ہو تا ہے کہ اس وقت کو دیکھنا بڑے جگر والوں کا کا م ہو تا ہے ۔۱؎دونو طرف کی حالت ہی بڑی قابل رحم ہو تی ہے قریبا چودہ پندرہ سال ایک جگہ رہے ہوئے ہو تے ہیں ۔آخر ان کی جدائی کا وقت نہایت ہی رقت کا وقت ہو تا ہے اس جدائی کو بھی نادان بے رحمی کہہ دے تو بجاہے مگراس کی لڑکی میں بعض ایسے قویٰ ہو تے ہیں جس کا اظہاراس علیحد گی اور سسرال میں جا کر شوہر سے معاشرت ہی کا نتیجہ ہوتا ہے جو طرفین کے لیے موجب برکت اور رحمت ہو تا ہے ۔ یہی حال اہل اللہ کا ہے ۔ان لوگوں میں بعض خلق ایسے پوشیدہ ہو تے ہیں کہ جب تک ان پر تکالیف اور شدایدنہ آویں ان کا اظہار ناممکن ہو تا ہے ۔ دیکھو اب ہم لوگ جو آنحضر ت ﷺ کے اخلاق بیان کر تے ہیں بڑے فخر اور جرأ ت سے کا م لیتے ہیں یہ بھی تو صرف اسی وجہ سے ہے کہ آنحضر ت ﷺ پروہ دونومامانے آچکے ہو ئے ہیں ورنہ ہم یہفضیلت کس طرح بیان کر تے ۔دکھ کے زمانہ کو بری نظر سے نہ دیکھو یہ خداسے لذت کو اور اس کے قرب کو اپنی طرف کھنیچتا ہے اسی لذت کو حاصل کر نے کے واسطے جو خدا کے مقبولوں کو ملا کرتی ہے دنیوی اور سفلی لذّات کو طلاق دنیی پڑا کرتی ہے ۔خدا کا مقر ب بننے کے واسطے ضروری ہے کہ دکھ سہے جاویں اور شکر کیا جاوے اور نئے دن ایک نئی موت اپنے اوپر لینی پڑتی ہے جب انسا ن دنیوی ہواوہوس اور نفس کی طرف سے بکلی موت اپنے اوپر وار دکرلیتا ہے تب اسے وہ حیات ملتی ہے جو کچھ کبھی فنا نہیں ہوتی ۔پھر اس کے بعد مرنا کبھی نہیں ہو تا ۔ قرآن کا نزول بحالت غم ہو ا ہے آنحضر ت ﷺ نے فر مایا ہے کہ قرآن غم کی حالت میں نازل ہو ا ہے ۔تم بھی اسے غم ہی کی حالت میں پڑھا کرو ۔اس سے صاف ثابت ہو تا ہے کہ آنحضر ت ﷺ کی زندگی کا بہت بڑا حصہ غم والم میں گذرا ہے توبہ کا درخت اور اس کا پھل توبہ کے درخت بو ۱ ؎ لو تا تم اس کے پھل کھا و۔توبہ کا درخت بھی بالکل ایک باغ کے درخت کی ما نند ہے جو جوحفا ظیتں