ندارج عالیہ کو حاصل کرنے کے قابل ہو سکو۔
خدا تعا لیٰ نے انسا ن سے نیا یت تنزل کے رنگ میں دوستانہ برتا ؤ کیا ہے ۔دوستانہ تعلق کیا ہو تا ہے یہی کہ کبھی ایک دوست دوسرے دوست کی با ت ما ن لیتا ہے اور کبھی دوسرے سے اپنی بات منواناچاہتا ہے چنانچہ خدا تعا لیٰ بھی ایسا ہی کرتا ہے چنانچہ
ادعونی استجب لکم (المومن : ۶۱)
اور اذاسالک عبادی عنی فانی قریب اجیبدعوت الداع اذادعان الایت (البقرہ :۱۸۷)
سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ انسا ن کی با ت ما ن لیتا ہے اور اس کی دعا کو قبول فر ما تا ہے اور دوسری
فلیستجیبوالی ولیومنعابی ۔
الایت اور
ولنبلونکم
آیت سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ اپنی با ت منوانا چا ہتا ہے ۔
بعض لوگ خدا تعا لیٰ پر الزام لگاتے ہیں کہ ہما ری دعا کو قبول نہیں کر تا ۔اولیا ء لو گو ں پر طعن کر تے ہیں کہ ان کی فلاں دعا قنول نہیں ہوئی ۔ اصل میں وہ نا دان اس قانون الہیٰ سے آشنامحض ہو تے ہیں جس انسان کو خدا سے ایسا معاملہ پڑاہو گا وہ خوب اس قاعدہ سے آگا ہ ہوگا ۔خدا تعا لیٰ نے ما ن لینے کے اور منوانے کے دونمونے پیش کئے ہیں ۔انہی کو ما ن لینا ایمان ہے تم ایسے نہ بنوکہ ایک ہی پہلو پر زوردو ۔ایسا نہ ہو کہ تم خدا کی مخالفت کر کے اس کے مقررہ قانون کو توڑنے کی کوشش کر نیوالے بنو ۔ ۱ ؎
مصائب کی لذت
مومن کے لیے مصائب ہمیشہ نہیں رہتے اور نہ لمبے ہو تے ہیں ۔بلکہ اس کے واسطے رحمت ،محبت اور لذت کا چشمہ جا ری کیا جا تا ہے ۔عاشق کوگ عشق کے غلبہ وقتوں اور اس کے دردوں میں ہی لذت پا تے ہیں ۔یہ با تیں گوایک خشک محض انسا ن کے لیے سمجھانی مشکل ہیں مگر جنہوں نے اس راہ قدم مارا ہے وہ ان کو خوب جا نتے ہیں بلکہ ان کو تو معمولی آرام اور آسایش میں وہ چین اور لذت نہیں ہو تی جو دکھ کے اوقات میں ہو تی ہے ۔
مثنوی رومی میں ایک حکایت ہے کہ ایک مرض ایسا ہے کہ اس میں جب تک اس کو مکے مارتے کو ٹتے اور لتاڑتے رہتے ہیں تب تک وہ آرام میں رہتا ہے ورنہ تکلیف میں رہتا ہے سویہی حا ل اہل اللہ کا ہے کہ جب تک ان کو مصائب وشدائد کے مشکلات آتے ہیں اور ان کو مار پڑتی رہے تب تک وہ خوش ہو تے ہیں اور لذت اٹھا تے ہیںورنہ بے چین اور بے آرام رہتے ہیں ۔
مومن کے جو ہرمصائب سے کھلتے ہیں
خدا تعا لیٰ قادرتھا کہ اپنے بندوں کو کسی قسم کی ایذاء نہ پہنچنے دیتا اور ہرطرح سے عیش وآرام میں انکہ زندگی