سے ایک قسم کا تعلق تھا ۔اللہ تعالیٰ نے نہ چا ہا کہ آنحضر ت ﷺ سے اس قسم کا تعلق رکھنے والے کو ضائع کر ئے ۱؎سو ان کے واسطے ایسے ایسے ساما ن میسر کر دئے کہ وہ خدا کی راہ میں شہادت پا نے کے قابل ہو گئے اور اس طرح وہ سابقین کے ساتھ مل گئے جن کے حالات سے وہ محض نا واقف تھے ۔ایک ذراسی تکلیف اور اجر عظیم مل گیا ۔شیعہ ہیں کہ اس حکمت الہیٰ کی طرف تو غور نہیںکر تے اور الٹا روتے ہیں کہ ان کوشہیدکر دیا ۔ ابتلا ء پر صبر کا اجر پس تم مومن ہو نے کی حا لت میں ابتلاء کوبرانہ جا نو اور براوہی جا نے گا جو مومن کا مل نہیں ہے قرآن شریف فر ما تاہے کہ۔ النبلونکم بشیی ء من الخوف والجوع ونقصمن الا موال والا نفس والثمرات وبشرالصابرین الذین اذااصابتھم مصیبت قالوااناللہواناالیہ راجعون ْ (البقرہ :۱۵۷) خدا تعالیٰ فرما تا ہکہ ہم کبھی تم کو مال سے یا جا ن سے یا اولاد یا دکھیتوں وغیرہ کے نقصان سے آزمایا کرنیگے نگر جو ایسے وقتوں میں صبر کر تے اور شاکر رہتے ہیں تو ان لو گوں کو بشارت دوکہ ان کے واسطے اللہ تعا لیٰ کی رحمت کے دروازے کشادہاور ان پر خدا کی بر کتیں ہوں گی جو ایسے وقتوں میں کہتے ہیں انا للہ وانا الیہ راجعون یعنی ہم اور ہمارے متعلق کل اچیاء یہ سب خدا ہی کی طرف سے ہیں اور پھر آخر کاران کا لوٹنا خدا ہی کی طرف ہے کسی قسم کے نقصان کا غم ان کے دل کو نہیں کھاتا ۔اور وہ لوگ مقام رضا میں بودوباش رکھتے ہیں۔ایسے لوگ صابر ہوتے ہیں اور صابروں کے واسطے خداتعا لیٰ نے بے حساب اجر رکھے ہوئے ہیں ۲ ؎ ۔ مُہتد ی سے مراد مھتدون سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے خدا تعا لیٰ کے منشاء کو پالیا اور اس کے مطابق عملدرآمد کرنے لگ گئے ۔ایسے ہی لوگ تو ولی ہو تے ہیں ۔انہیں کو تو لوگ قطب کہتے ہیں یہی تو غوث کہلاتے ہیں پس تم کو شش کرو کہ تم بھی ان