کی یہ نوبت کہ دن میں پا نچ مر تبہ یا سات مرتبہ شراب ۔بلکہ پا بی کی بجا ئے شر اب ہی سے کا م لیا جا تا تھا ۔حرام کو تو شیرمادرجا نتے تھے اور قتل وٖیرہ تو ان کے نزدیک ایک گا جر مولی کی طر ح تھا ۔غر ض کل دنیا کی اقوام کا نچوڑاور گندے عقائدکا عطر ان کے حصہ میں آیا ہو اتھا ۔اس قوم کی اصلاح کرنی اور پھر ان کو دوست کر نا اور پھر اس پر زمانہ وہ کہ یکہ وتنہا بے رومددگا رپھرتے ہیں کبھی کھا نے کو ملا اور کبھی پھوکے ہی سورہے جو چند ایک ہمراہی ان کی بھی ہر روز بری گت بنتی ہے ۔بے کس اور بے بس ۔ادھر کے ادھراور ادھرکے ادھرمارے مارے پھرتے ہیں ۔وطن سے بے وطن کر دئے گئے ہیں ۔
پھر دوسرازما نہ تھا کہ تما م جزیرہ عرب ایک سرے سے دوسرے سرے تک غلا م بنا ہو اہے ۔کہ مخا لفت کے رنگ میں چوں بھی نہیں کر سکتا اور ایسا اقتدار اور رعب خدا نے دیا ہو اہے کہ اگر چا ہتے تو لک عرب کو قتل کر ڈالتے اگر ایک نفسا نی انسا ن ہو تے تو ان سے ان کی کر رتو توں کا ندلہ لینے کا عمدہ مو قع تھا ۔جب الٹ کر مکہ فتح کیا تو
لا تثریب علیکم الیوم
فرما یا ۔
غرض اس طر ح سے جو دونوزما نے آنحضر ت ﷺ پر آئے اور دونوکے واسطے ایک کا فی موقع تھا کہ اچھی طرح سے جانچے پرکھے جا تے اور ایک جو ش یا فوری ولولہ کی حا لت نہ تھی ۔آنحضر ت ﷺکے ہر طرح کے اخلا ق فا ضلہ کا پو را پوراامتحان ہو چکا تھا اور آپ کے صبر ۔استقلال ۔عفت ۔حلم ۔بردبا ری ۔شجاعت ۔سخاوت جودوغیرہ وغیرہ کلاخلاق کا اظہارہوچکا تھا اور کوئی ایسا حصہ نہ تھا کہ با قی رہ گیا ہو۔
حضرت امام حسینؓکی شہادت
غرض ایسے ایسے مصائب ہیں جو ان کے لیے رحمت ہیں اور ان سے ان لوگوں کے اندرونی گُن ظاہر ہوتے ہیں ۔دیکھو حضرت امام حُسین ؓ جنہوں نے ہمیشہ ناز و نعمت میں پرورش پائی تھی اورسیّد سیّد کر کے پکارے جاتے تھے ۔انہوں نے بھی تو سختی کا زمانہ نہ دیکھا ۔ان کو ایسے ایسے زمانے دیکھنے کا موقعہ ہی نہ ملا تھا کہ وہ اُن صحابہ ؓکے مراتب کو پہنچ سکتے ۔ان کی ساری زندگی ناز ونعمت میںگذری تھی نہ انہوں نے کسی جہاد میں حصہ لیا تھا نہ کسی کفر ہی کوتوڑاتھا تو خدا نے جو اُن کو شہید کیا ۔کیااُن پر ظلم کیا ؟ہرگز نہیں ۔انہوں نے پچاس پچپن برس کی عمر تک وہ زمانہ نہ دیکھا تھاکہ شدائدکیا ہوا کرتے ہیں اور انہوں نے یہ بھی نہ دیکا کہ جب صحا بہؓ بکریوں کی طرح ذنجہوتے تھے تو پھر ان کا کیا تھا کہ وہ شہداء میں درجہ پا تے یا کسی آخرت میں خدا کے قرب میں عزت پا تے ۔کیاان کو فاطمہ رضی اللہ عنیا کا بیٹا کہلا نے کا فخر بس تھا ؟ اور ان کے واسطے یہی کا فی تھا ؟ نہیں اس سے تو رسول اللہ ﷺ نے بھی منع فر ما یا تھا ۔اس سے کو ئی حق قرب الہیٰ نہیں ہو سکتا یھا ۔غرض انکی اپنی تو ایسی بطاہر کا رنمائی نہ تھی جس سے وہ ان درجات اعلیٰ کے وارث یا حقدار ہو تے ۔مگر چونکہ ان کو آنحضر ت ﷺ