دروازہ بندہو تا ہے ان لو گو ں کے قویٰ دو قسم کے موقعوں پر اظہارپذیرہو تے ہیں ۔بعض تو مصائب وشدائد اور دکھوں کے زما نہ میں ۔کیو نکہ یکطرفہ کا روائی قابل اعتماد نہیں ہو تی ۔ممکن ہے کہ ایک شخص جس نے بچپن سے خوشحالی اور آرام اور آسائش کے سوا کچھ دیکھا ہی نہیں ۔اس کے قو یٰ کا پورا اندازہ نہیں ہوسکتا ہے اور دوسرابچپن سے غربت کی ماراوربد حالی میں مبتلا رہا ہے اس کے قویٰ کا بھی پورا اندازہ کرنا مشکل ہے کسی شخص کے اخلا ق فا ضلہ اور اس کے خلق کے متعلق اس کے حالا ت کا اندازہ تب ہی ہو سکتا ہے جب اس پر انعام وابتلا ء ہر دوطرح کے زما نے آچکے ہو ں ۔سواس امر کے دیکھنے کے لیے بھی ہما رے بنی ﷺ کی سی اور کو ئی مثال نہیں کیو نکہ با قی انبیاء میں سے اکثر ایسے تھے کہ انہوں نے نہا یت کا رایک زمانہ دیکھا دوسرے کی نوبت ہی نہیں آئی ۔مثلا حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں ۔ہمارا اعتقادہے کہ وہ خدا تعا لیٰ کے بر گزیدہ اور پاک بنی تھے ۔خدا کے نزدیک ان کے بڑے مدارج ہیں مگر آنحضر ت ﷺکے مقابل میں رکھ کر اگر ان کو کسی کسوٹی پرپرکھا جا وے تو ان کے اخلا ق بہت گر ہوئے معلوم ہو تے ہیں ۔انہوں نے قتداراور ثروت کا زما نہ نہ پا یا اور نہ اس کے متعلق ان کے اخلا ق کا اظہا ر ہو ا ۔ہمیں تو قر آن شر یف مجبورکر تا ہے ورنہ ہم اگر ان کے حا لات کے لحاظ سے اور ان کی عا م سوانح کی وجہ سے دیکھیں تو وہ تو ایک کا مل انسا ن کے مر تبہ سے بھی گر ے ہو ئے معلوم ہو تے ہیں کجا یہ کہ عسیا ئی ان کو قسوس کا مر تبہ دے بیھٹے ہیں ۔بھلا ان کا صبر، ان کی داودودہش ،ان کی جو دوسخا کا کو نسا نمونہ دنیا میں با قی رہا ہے ۔ان کی شجا عت کے اظہا ر کا کو نسا مو قعہ تھا ۔کس جنگ میں انہوں نے ا س امر کا ثبو ت دیا ۱؎۔ ان کی بعثت کا زما نہ صرف تین سال تھا اور وہ بھی مصائب کا زما نہ ۔مقابلہ پرصرف ایک ہی قوم تھی جو معدے ودے چندسے زیا دہ ہر گزنہ تھی ۔ان کا پیش کردہ امر بھی ان کے لیے کو ئی نر الانہ تھا جس کی مثال پہلے نہ پا ئی جا تی ہو ۔قوم پہلے ہی تو حیدپسند تھی ان کے خلا ق اور انکے عقائدکا بہت سا حصہ اچھا تھا ۔ان میں خدا تر س اور گو شہ نشین وغیرہ بھی تھے ۔غرض ان کا کا م نہایت سہل اور آسان تھا ادھر ہما رے بنی ﷺ کی طرف دیکھوکہ آپ کی نبوت کے زما نہ میں سے ۱۳ سال مصائب اور شدائدکے تھے اور دس سال قوت وثروت اور حکومت کے ۔مقابل میں کئی قومیں ۔اول تو اپنی ہی قوم تھی ۔یہودی تھے عیسائی تھے۔بت پرست قوموں کا گروہ تھا ۔مجوس تھے وغیرہ ۔جن کا کا م کیا ہے ؟ بت پرستی ۔جو ان کا حقیقی خدا کے اعتقادسے پختہ ا عتقاد اور مسلک تھاوہ کو ئی کا م کر تے ہی نہ تھے جو ان بتو ں کی عظمت کے خلاف ہو ۔شراب خوری