جاتے ہیں ۔کامل توبہ کرنے والا شخص ہی ولی ،قطب اور غوث کہلاسکتا ہے ۔اسی حالت میں وہ خدا کا محبوب بنتا ہے اس کے بعد بلائیں جو انسان کے واسطے مقدرہوتی ہیں ٹل جاتی ہیں ۔
انبیاء اور مومنو ں پر مصائب آنے کی حکمت
اس سے یہ خیال نہ آوے کہ پھر انبیاء اورنیک مومنوں کو کیوں تکلیفیں آتی ہیں ؟ان لوگو پر بھی بعض بلائیں آتی ہیں اور ان کے واسطے آثار رحمت ہوتی ہیں ۱ ؎ ۔دیکھو ہمارے نبی ﷺپر کیسی کیسی مصائب آتی تھیں ۔اُن کو گنِنابھی کسی بڑے دِل کا کام ہے ۔اُن کے نام سے ہی انسان کے بدن پر لرزہ آتا ہے ۔پھر جو کچھ سلو ک آنحضر ت ﷺ کے ہمر اہیوں سے ہو ئے ۔ان کی بھی تا ریخ گو اہ ہے کیا کو ئی ایسی بھی تکلیف تھی جو آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحا بہؓ کو پہنچا ئی نہ گئی ہو ؟ جس طر ح ان کی ایذاء وہی میں کفا رنے کو ئی وقیقہ با قی نہ اٹھا رکھا تھا ۔اسی طر ح اللہ تعا لیٰ نے بھی ان کے کما لا ت میں کو ئی کمی با قی نہ رکھی ۔اصل میں ان لو گو ں کے واسطے یہ مصا ئب اور سختیا ں تر یا ق ہو جا یا کر تی ہیں ۔ان لو گو ں کے واسطے خدا کی رحمت کے خزا نے انہیں سختیوں ہی کی وجہ سے کھو لے جا تے ہیں ؎
ہر بلا کیں قو م را حق دادہ است ؛ زیر آں گنج کر م بنہادہ است
مگر ایسے وقت میں انسا ن کو چا ہیئے کہ صبر جمیل کر ے اور خدا تعا لیٰ سے بدظن نہ ہو ۔وہ لوگ تو خدا کے اسلام کو انعا م کے رنگ میں دیکھتے ہیں اور ابتلا ء میں لذت پا تے ہیں ۔قرب کے مر اتب جس چر ح جلد ابتلاء کے وقت میں چے ہو تے ہیں وہ یو ں زہد وتعبد یا ریا ضت سے تو سا لہا سا ل میں بھی تما م نہیں کئے جا تے ان کو گو ں میں سے جو خدا کے قر ب کا نمونہ بنے اور خلق کی ہدا یت کا تمغہ ان کو دیا گیا یا وہ خدا تعا لیٰ کے محبوب ہوئے ۔ایک بھی نہیں جس پر کبھی نہ کبھی مصائب اور شدائد کے پہا ڑ نہ گر ے ہو ں ۔ان لو گو ںکی مثا ل مشک کے نا فہ کی سی ہو تی ہے ۔وہ جب تک بندہے اس میں اور ایک پتھر یا مٹی کے ڈھیلے میں کچھ تفا وت نہیں پا یا جا تا مگر جب اس پر سختی سے جر احی کا عمل کیا جا وے اور اسکو چھری یا چا قو سے چیراجا وے تو معاًاس میں سے ایک خوشکن خوشبونکلتی ہے جس سے مکا ن کا مکان معطرہو جا تا ہے۔ اور قریب آنے والا بھی معطر کیا جا تا ہے۔ سویہی حا ل ابنیاء اور صادق مو منوں کا ہے کہ جب تک ان کو مصائب نہ پہنچیں تب ان کے اندرونی قویٰ چھپے رہتے ہیں اور ان کی ترقیا ت کا