شرک کی حقیقت دیکھو خدا یہ بھی نہیں چا ہتا کہ اس کے سا تھ کسی کو شرک کیا جا وے ۔بعض لو گ اپنے شر کا ء نفسا نی کے واسطے بہت حصہ رکھ لیتے ہیں اور پھر خدا کا بھی حصہ مقرر کر تے ہیں ۔سوایسے حصہ کو خدا قبو ل نہیں کر تا وہ خا لص حصہ چا ہتاہے ۔اس کی ذات کے سا تھ کسی کو شر یک بنا نے سے زیا دہ اس کو غضبنا ک کر نے کا اور کو ئی آلہ نہیں ہے ۔ایسا نہ کر و کہ کچھ تو تم میں تمہا رے نفسا نی شر کا ر کا حصہ ہو اور کچھ خدا کے واسطے ۔خدا تعالیٰ فر ما تا ہے کہ میں گنا ہ معا ف کر وں گا مگر شرک نہیں معا ف کیا جا وے گا ۔ یا درکھو شر ک یہی نہیں کہ بتو ںاور پتھر وں کی تر اشی ہو ئی مو رتو ں کی پو جا کی جا وے۔ یہ تو ایک مو ٹی با ت ہے یہ بڑ ے بیو قو فوں کا کا م ہے دا نا آدمی کو تو اس سے شر م آتی ہے ۔شر ک بڑا با ر یک ہے وہ شر ک جو اکثر ہلا ک کر تا ہے وہ شر ک فی الا سبا ب ہے یعنی اسبا ب پر اتنا بھر وسہ کر نا کہ گو یا وہی اس کے مطلوب ومقصودہیں جو شخص دنیا کو دین پر مقد م رکھتا ہے اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ اس کو دنیا کی چیزوں پر بھر و ہو تا ہے اور وہ امید ہو تی ہے جو دین و ایما ن سے نہیں ۔نقد فا ئد ہ کو پسند کر تے ہیں اور آخر ت سے محروم ۔جب وہ اسبا ب پر ہی اپنی سا ری کا میا بیو ں کا مدار خیا ل کر تا ہے تو خدا تعا لیٰ کے وجو د تو اس وقت وہ لغو محض اور بے فا ئدہ جا نتا ہے اور تم ایسا نہ کر و ۔تم تو کل اختیا ر کرو۔ تو کل تو کل یہی ہے ۲؎کہ اسبا ب جو خدا تعا لیٰ نے کسی امر کے حا صل کر نے کے واسطے مقرر کئے ہو ئے ہیں ان کو حتی المقدور جمع کرو ۔اور پھر خود دُعائوں میں لگ جائوکہ اے خدا تو ہی اس کا انجام بخیر کر ۔صد ہا آفات ہیں اور ہزاروں مصائب ہیں جو ان اسباب کوبھی برباد اور تہ وبالا کر سکتے ہیں ۔انکی دست برد سے بچا کر ہمیں سچی کامیابی اور منزل مقصود پر پہنچا ۔ حقیقتِ توبہ توبہ کے معنی ہی یہ ہیں کہ گناہ کو ترک کرنا اور خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا۔بدی چھوڑ کر نیکی کی طرف گے قدم بڑھانا ۔توبہ ایک موت کو چاہتی ہے جس کے بعد انسان زندہ کیا جاتا ہے اور پھر نہیں مرتا۔توبہ کے بعد انسان ایسا بن جائوے کہ گویا نئی زندگی پا کر زندگی میں آیا ہے نہ اس کی وہ چال ہو نہ اس کی وہ زبان نہ وہ ہاتھ نہ پائوں۔سارے کا سارا نیا وجود ہو جو کسی دوسرے کے ماتحت کام کرتا ہوا نظر آجاوے۔دیکھنے والے جان لیے کہ یہ وہ نہیں یہ تو کوئی اَور ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ یقین جانو کہ توبہ میں بڑے بڑے ثمرات ہیں ۔یہ برات کا سر چشمہ ہے۔در حقیقت اولیائاور صلحاء یہی گ ہوتے ہیں جو توبہ کرتے اور پھر اس پر مضبوط ہو جاتے ہیں ۔وہ گناہ سے دور اور خدا سے قریب ہوتے