بعض لو گو ں نے جھو ٹ ہی کو رب بنا یا ہو ا ہو تا ہے وہ جا نتے ہیں کہ ہما را جھو ٹ کے بد وں گذارہ مشکل ہے بعض چو ری وراہزنی اور فر یب دہی ہی کو اپنا رب بنا ئے ہو ئے ہیں ۔ان کا اعتقا دہے بکہ اس راہ کے سو اان کے واسطے کو ئی رزق کا راہ ہی نہیں ۔سوان کے اربا ب وہ چیزیں ہیں ۔دیکھو ایک چو ر جس کے پا س سا رے نقب زنی کے ہتھیا ر مو جو دہیں اور را ت کا مو قعہ بھی اس کے مفید مطلب ہے اور کو ئی چو کیدا ر وغیر ہ بھی نہیں جا گتا ہے تو ایسی حا لت میں وہ چو ری کے سوا کسی اور راہ کو بھی جا نتا ہے جس سے اس کا رزق آسکتا ہے ؟ وہ اپنے ہتھیارو ں کو ہی اپنا معبو د جا نتا ہے۔غر ض ایسے لو گ جن کو اپنی ہی حیلہ با زیو ں پر اعتماد اور بھروسہہو تا ہے ان کو خدا سے استعانت اور دعا کر نے کی کیا حاجت ؟ دعا کی حا جت تو اسی کو ہو تی ہے جس کے سا رے راہ بندہو ں اور کو ئی راہ سوائے اس در کے نہ ہو ۔اسی کے دل سے دعا نکلتی ہے ۔غر ض ربنا اتنا فی الدنیا حسنت الخ ایسی دعا کر نا صر ف نہیں انہیں لو گو ں کا کا م ہے جو خداہی کو اپنا رب جا ن چکے ہیں اور ان کو یقین ہے کہ ان کے رب کے سا منے اور سا رے اربا ب با طلہ ہیچ ہیں ۔ آگ سے مردا صر ف وہی آگ نہیں جو قیا مت کو ہو گی بلکہ دنیا میں بھی جو شخص ایک لمبی عمر پا تا ہے وہ دیکھ لیتا ہے کہ دنیا میں بھی ہزاروں طر ح کی آگ ہے ۔تجربہ کا ر جا نتے ہیں کہ قسم قسم کی آگ دنیا میں مو جو د ہے طر ح طر ح کے عذاب خو ف ۔حزن ۔فقرہ فا قے ۔امر اض۔نا کا میا ں۔ذلت وادبا ر کے اند یشے ۔ ہزاروں قسم کے دکھ ۔اولا د ۔بیو ی وغیر ہ کے متعلق تکا لیف اور رشتہ داروں کے سا تھ معا ملا ت میں الجھن ۔غر ض یہ سب آگ ہیں ۔تو مو من دعا کر تا ہے کہ سا ری قسم کی آگو ں سے ہمیں بچا ۔جب ہم نے تیرا دامن پکڑا ہے تو ان سب عوا رض سے جو انسا نی زندگی کو تلخ کر نے والے ہیں اور انسا ن کے لیے بمنزلہ آگ ہیں بچا ئے رکھ ۔ سچی تو بہ ایک مشکل امر ہے ۔ بجز خد اکی تو فیق اور مددکے تو بہ کر نا اور اس پر قائم ہو جا نا محا ل ہے ۔تو بہ صر ف لفظوں اور با تو ں کا نا م نہیں ۔دیکھو خدا قلیل سی چیز سے خو ش نہیں ہو جا تا ۔کو ئی ذرا سا کا م کر کے خیا ل کر لینا کہ بس اب ہم نے جو کر نا تھا کر لیا اور رضا کے مقا م تک پہنچ گئے یہ صر ف ایک خیا ل اور وہم ہے ۔ہم دیکھتے ہیں کہ جب ایک با دشا ہ کو ایک دانہ کر یا مٹی کی مٹھی دے کر خو ش نہیں کر سکتے ۔بلکہ اس غضب کے مو ردبنتے ہیں تو کیا وہ احکن الحا کمین اور با دشا دہو ں کا با دشا ہ ہما ری ذرا سی نا کا رہحر کت سے یا دو لفظو ں سے خو ش ہو سکتا ہے ۱؎ خدا تعا لیٰ پو ست کو پسند نہیں کر تا وہ مغز چا ہتا ہے ۔