وہ دلو ں کے پو شیدہ اور منفی رازوں کو جا نتا ہے وہ کسی کے دھوکہ میں نہیں آتا پس چا ہیئے کہ اس کو دھو کا دینے کی کو کشش نہ کی جا وے اور صدق سے نہ نفا ق سے اس کے حضو ر تو بہ کی جا وے ۔ تو بہ انسا ن کے واسطے کو ئی زائدیا بے فا ئدہ چیز نہیں ہے اور اس کا اثر صر ف قیا مت پر ہی منحصر نہیں بلکہ اس سے انسا ن کی دنیا اوع دین دو نو سنو ر جا تے ہیں ۔اوراسے اس جہا ن میں اور آنے والے جہا ن دونومیں آرام اور خو شحا لی نصیب ہو تی ہے ۱ ؎ ۔ دیکھو قر آن شر یف میں اللہ تعا لیٰ فر ما تا ہے ۔ ربنا اتنا فی الدنیا حسنتہ وفی الا خر تہ حسنتہ وقنا عذاب النا ر (البقرہ :۲۰۲) اے ہما رے رب ہمیں اس دنیا میں بھی آرا م اور آسا ئش کے سا ما ن عطا فر ما اور آنے والے جہا ن میں آرا م اور را حت عطا فر ما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا ۔ دیکھو دراصل ربنا کے لفظ میں تو بہ ہی کی طرف ایک با ر یک اشا رہ ہے کیو نکہ ربنا کا لفظ چا ہتا ہے ۲ ؎ کہ وہ بعض اور ربو ں کو جو اس نے پہلے بنا ئے ہو ئے تھے ان سے بیزاہو کر اس رب کی طر ف آیا ہے اور یہ لفظ حقیقی درداور گداذ کے سوا انسا ن کے دل سے نکل ہی نہیں سکتا ۔رب کہتے ہیں بتد ریج کما ل کو پہنچا نے والے اور پر ورش کر نیوالے کو ۔اصل میں انسا ن نے بہت سے اربا ب بنا ئے ہو تے ہیں اپنے حیلوں اور دغابا زیو ںپر اسے پورا بھر وسہ ہو تا ہے تو وہی اس کے رب ہو تے ہیں ۔اگر اسے اپنے علم کا یا قو ت با زو کا گھمنڈہے تو وہی اس کے رب ہیں ۔اگر اسے اپنے حسن یا ما ل ودولت پر فخر ہے تو وہی اس کے رب ہے غر ض اس طر ح کے ہزا رو ں اسبا ب اس کے سا تھ لگے ہو ئے ہیں ۔جب تک ان سب کو تر ک کر کے ان سے بزار ہو کر اس وا حد لا شر یک سچے اور حقیقی رب کے آگے سر نیا ز نہ جھکا ئے اور ربنا کی پر درد اور دل کو پگھلا نے والی آوازوں سے اس کے آستا نہ پر نہ گر ے ۔تب تک وہ حقیقی رب کو نہیں سمجھا ۔پس ایسی دلسو زی اور جا نگدازی سے اس کے حضور اپنے گنا ہو ں کا اقر ار کر کے تو بہ کر تا اورا سے مخا طب کر تا ہے کہ ربنا یعنی اصلی اور ر حقیقی رب تو تو ہی تھا مگر اپنی غلطی سے دوسر ی جگہ بہکتے پھر تیرہے ۔اب میں ان جھو ٹے بتو ں اور با طل معبو دو ں کو تر ک کر دیا ہے اور صدق دل سے تیر ی ربو بیت کا اقرارکر تا ہو ں ۔تیر ے آستا نہ پر آتا ہو ں ۔ غر ض بجزاس کے خدا کو رب بنا نا مشکل ہے جب تک انسا ن کے دل سے دوسر ے رب اور ان کی قدرومنزلت وعظمت ووقا رنکل نہ جا وے تب تک حقیقی رب اور اس کی ربو بیت کا ٹھیکہ نہیں اٹھا تا ۔