گفتہ اند کہ نکو ئی کن وررآپ انداز ۔کتا بیں ہم مفت دیتے ہیں مگر اس میں ہما ری سا دگی نہیں ہے نہ ہم غلطی پر ہیں ۔ہما را منشا ء تبلیغ کا ہو تا ہے ۔اگر ہزا ر کتاب شا ئع ہو اور ایک شخص بھی راہ راست پر آجا وے تو ہما را مطلب پورا ہو گیا ۱ ؎ ایک جا مع درس نو ما رچ کے دربا ر شا م میں حضر ت حجتہ اللہ مسیح مو عو دعلیہ الصلوٰتہ واسلا م نے ایک مامع تقر یرفر ما ئی ۔ ہم کو افسو س ہے کہ اس روز ہم ایک مصر فیت کی وجہ سے مو جو دنہ تھے اس لیے اس تقر یر کو خود قلمبند نہیں کر سکے تا ہم ہما رے ایک عزیز نے اس ک کچھ نو ٹ لیے تھے جن کو مر تب کر کے نا ظر ین کے فا ئد ے کے لیے ما لا ید رک کلہ لا یترک کلہ پر عمل کر نے کے لیے اسے ہی پیش کر دیتے ہیں ۔ (ایڈیٹرالحکم) نو مبا ئعین کو نصیحت چند احباب بتقریب نما ز عید الا ضحی دارالا ما ن میں تشر یف لا ئے اور انہو ں نے بیعت کی ۔ حضر ت اقدس اما م پا ک علیہ اسلا م نے کھڑے ہو کر یہ تقر یر فر ما ئی ۔ فر ما یا :۔ دیکھو جس قدر آپ لو گو ں نے اس وقت بیعت کی ہے اور جو پہلے کر چکے ہیں ان کو چندکلما ت بطو رنصیحت کے کہتا ہو ں ۔چا ہیئے کہ اسے پو ری تو جہ سے سنیں ۔ آپ لو گو ں کی یہ بیعت۔بیعت تو بہ ہے ۲ ؎ تو بہ دو طر ح ہو تی ہے ایک تو گذشتہ گنا ہو ں سے یعنی انکی اصلا ح کر نے کے واسطے جو کچھ پہلے غلطیا ں کر چکا ہے ان کی تلا فی کر ے اور حتی الو سع ان بگاڑوں کی اصلاح کی کو کشش کر نا اور آیند ہ کے گنا ہو ں سے با ز رہنا اور اپنے آپ کو اس آگ سے بچا ئے رکھنا ۔ تو بہ اللہ تعا لیٰ کو وعدہ ہے کہ تو بہ سے تما م گنا ہ جو پہلے ہو چکے ہیں معا ف ہو جاتے ہیں بشر طیکہ وہ تو بہ صدق دل اور خلا ص نیت سے ہو اور کو ئی پو شیدہ وغا با زی دل کے کسی کو نہ میں پو شیدہ نہ ہو ۔