کے دکھ انسا ن کو دنیا میں ملتے ہیں۔ مگر جب خدا کا فضل ہو تا ہے تو ان سب سے انسا ن بچتا ہے اس لیے تم لو گ اگر اپنے وعدہ کے مو افق قا ئم رہو گے تو وہ تم کو ہر ایک بلا سے بچا ئے گا ۔نما ز میں پکے رہو ۔جو مسلما ن ہو کر نما زنہیں ادا کر تا ہے وہ بے ایما ن ہے ۔اگر وہ نما ز ادا نہیں کر تا تو بتلا و ایک ہندو میں اور اس میں کیا فر ق ہے ؟ زمنیدا رو ں کا دستو ر ہے کہ ذراذرا سے عذر پر نما ز چھو ڑدیتے ہیں ۔کپڑ ے ۲ ؎ کا بہا نہ کر تے ہیں لیکن اصل با ت یہ ہے اگر کسی کے پا س اور کپڑے نہ ہو ں تو اسی میں نما ز پڑھ لے اور جب دو سر ا کپڑا مل جا وے تو اس کو بد ل دے ۔ اسی طر ح اگر غسل کر نے کی ضر ور ت ہو اور بیما ر ہو تو تمیم کر لے ۔خدا نے ہر ایک قسم کی آسانی کر دی ہے تا کہ قیا مت میں کسی کوعذر نہ ہو ۔ اب ہم مسلما نوں کو دیکھتے ہیں کہ شطر نج گنجفہ وغیر ہ بیہو دہ با تو ں میں وقت گذارتے ہیں ۔ان کو یہ خیا ل تک نہیں آتا کہ ہم ایک گھنٹہ نما ز میں دیں گے تو کیا حر ج ہو گا ؟سچے آدمی کو خدا مصیبت سے بچا تا ہے اگر پتھر بھی بر سیں تو بھی اسے ضرور بچادے گا ۔اگر وہ ایسا نہ کر ے تو سچے اور چھو ٹے میں کیا فر ق ہو سکتا ہے ؟لیکن یاد رکھو کہ صر ف ٹکر یں ما رنے سے خدا را ضی نہیں ہو تا ۔ کیا دنیااور کیا دین میں جب تک پو ری با ت نہ ہو فا ئد ہ نہیں ہو اکر تا۔ جیسے میں نے کئی با ر بیا ن کیا ہے ۔کہ روٹی اور پا نی سیر ہو کر نہ کھا ئے پئے تو وہ کیسے بچ سکتا ہے ؟ یہ مو ت طاعون کی جو اب آئی ہے یہ اس وقت ٹلے گی کہ انسا ن قدم پو را رکھے ۱؎ادھورے قدم کو خدا پسند نہیں کر تا ۔