بد ی کو خدا کے خو ف سے چھو ڑدو
جو با ت طا قت سے با ہر ہے وہ تو خدا معا ف کر دیگا۔ مگر جو طا قت کے اندر ہے اس سے مواخذہ ہو گاجب انسا ن نیک بنتا ہے تو اس کے دائیں با ئیں آگے پیچھے خدا کی رحمت کے فر شتے ہو تے ہیںسچا مو من ولی کہلا تا ہے اور اس کی بر کت اس کے گھر اور اس کے شہر میں ہو تی ہے جو خدا تعا لیٰ کو نا راض کر تا ہے۔ وہ نجا ست کھا تا ہے ۔اگر انسا ن بد ی کو خدا کے خو ف سے چھو ڑ دے تو خدا اس کی جگہ نیک بدلہ اسے دیتا ہے ۔مثلا ایک چو ری کر تا ہے اور وہ چو ری کو چھوڑدے تو پھر خدا اس کی وجہ معا ش حلا ل طور سے کر دیگا ۔اسی طر ح زمیندا روں میں پا نی وغیرہ چر انے کا دستو ر ہو تا ہے اگر وہ چھو ڑدیں تو خدا ان کی کھتی میں دوسری طر ف سے بر کت دے دیگا ۔ایک نیک متقی زمیندا ر کے واسطے خدا تعا لیٰ با دل کا ٹکر ا بھیج دیا کر تا ہے اور اس کے طفیل دوسر ے کھیت بھی سیر اب ہو جا تے ہیں حد یث میں آیا ہے کہ چو ر جب چو ری کر تا ہے تو ایما ن اس میں نہیں ہو تا اور اند رونی جب زنا کر تا ہے تو ایما ن اسمیں نہیں ہو تا ۔
یا د رکھو کہ وسو سے جو بلا ارادہ دل میں پیدا ہو تے ہیں ان پر مواخذہ نہیں ہو تا جب پکی نیت انسا ن کسی کا م کی کر ے تو اللہ تعا لیٰ مواخذ ہ کر تا ہے اچھا آدمی وہی ہے جو دل کو با تو ں سے ہٹا دے ۔ہر ایک عضو کے گنا ہو ں سے بچے ۔ہا تھ سے کو ئی بد ی کا کا م نہ کرے ۔کا ن سے کو ئی بری با ت چغلی غیبت ۔ گلہ وغیرہ نہ سنے ۔آنکھ سے محر مات پر نظر نہ ڈالے ۔پا ئوں سے کسی گنا ہ کی جگہ چل کر نہ جا وے ۔
شریروں کیلئے مہلت
با ر با ر میں کہتا ہو ں کہ تم لو گ طا عو ن سے بے خو ف نہ ہو اور یہ نہ سمجھو کہ اب اس کا دورہ ختم ہو گیا ہے ۔جو لو گ یہ کہتے ہیں کہ ہم کو کیو ں نہیں آتی اور وہ بد ی پر مصر ہیں ان کو وہ ضرور پکڑ ے گی ۔اس کا دستو ر ہے کہ اول دور دور رہتی ہے ۔ب دیکھو مکہ میں قحط بھی پڑا ۔وبا بھی آئی لیکن ابو جہل کا با ل بھی بیکا نہ ہو ا حا لا نکہ وہ آنحضر ت ﷺ کا سخت دشمن تھا ۔چو دہ ۱۴ بر س تک خدا تعالیٰ نے اسے ایسا رکھا کہ سر درد تک نہ ہو ا ۔آخر وہا ں ہی قتل ہو ا جہا ں پغمیبرخدا نے اس کا نشا نبتا یا تھا ۔اس دنیا میں اللہ تعا لیٰ سب کا م پر دے سے کر تا ہے اگر وہ قہر ی تجلی ایک دن دکھا دے تو سب ہند و وغیر ہ مسلما ن ہو جا ویں ۔تم میں سے کو ئی تکبر اور غرور سے یہ نہ کہے کہ مجھے طا عو ن نہیں آتی ۔
خدا تعا لیٰ شریروں کو اس لیے مہلت دیتا ہے کہ شا ید با ز آجا ویں اور ہدا یت ہو ۔ ۱؎