رسالت کا امر نظر آتا وہ معذور تھے انہوں نے جو دیکا تھا اسی کے مطابق رائے زنی کر دی پس اس واسطے ضروری ہے کہ مامور من اللہ کی صحبت میں دیر تک رہا جاوئے ممکن ہے کہ کوئی جس نے نشان کوہی نہ دیکھا ہو کہدے کہ جی ہماری طرح نماز روزہ کرتا ہے اور کیا ہے دیکھو حج کے واسطے جانا خلوص اور محبت سے آسان ہے مگر واپ ایسی حالت میں مشکل ۔بہت ہیں جو وہاں سے نامراد اور سخت دل ہو کر آتے ہیں اس کی بھی یہی ہ ہے کہ وہاں کی حقیقت اُن کو نہیں ملتی ۔قشر کو دیکھو کہ رائے زنی کرنے لگ جاتے ہیں وہاں کی فیوض سے محروم ہو جاتے ہیںاپنی بدکاریوں کی وجہ سے اور پھر الزا م دوسروں پر دھرتے ہیں۔اس واسطے ضروری ہے کہ مامور کی خدمت میں صدق اور استقلال سے کچھ عرصہ ر ہاجاوئے تاکہ اس کے اندرونی حالات سے بھی آگاہی ہو صدق پُورے طور پر نورانی ہوجاوئے
(الحکم جلد ۷نمبر۱۰ صفحہ۳و۴مورخہ۱۷مارچ۱۹۰۳ئ)
سناتن دھرم
ہندووں کا ذکر چل پڑا ۔فر ما یا :۔
یہ جو میں نے ایک اور رسا لہ لکھا ہے اس کا نا م سنا تن دھر م ہی رھا ہے یہ لو گ اسلا م کے بہت ہی قریب ہیں ۔ اگر زوائدکو چھوڑدیں ۔بلکہ میں نے ان سے سنا ہے اور پڑھا بھی ہے کہ جب یہ جو گی ہو کر خدا کے بہت قریب ہو جاتے ہیں ۔تو اس وقت بت پر ستی کو حرا م جا نتے ہیں ۔ابتداء میں صر ف تمثیلی طو ر پر بت پرستی انہو ں نے غلطی سے رکھ لی لیکن اعلیٰ مر اتب پر پہنچ کر اسے اس لیے چھو ڑدیتے ہیں کہ قر یب ہو کر پھر بعید نہ ہو ں اور اس حا لت میں جو مرتا ہے اسے جلا تے بھی نہیں بلکہ دفن کر تے ہیں ۔
کلمتہ اللہ
کلمتہ اللہ پر فر ما یا کہ :۔
وجو دیو ں کی طر ف تو ہم نہیں جا تے مگر جب تک کلمتہ اللہ نہ کہا جا وے توبا ت بھی نہیں بنتی ۔یہ علم بہت گہرا ہے ۔جو شئے خدا سے نکلی ہے اس پر رنگ تو خدا کا ہے مگر یہ لو گ اسے خدا سے الگ خیا ل نہیں کر تے ۔فیض کے یہ معنے ہیں کہ ہدایت ہو ۔
(البد ر جلد۲ نمبر۸ صفحہ ۶۱مورخہ۱۳مارچ۱۹۰۳ئ)
۶ مارچ ۱۹۰۳ء
بَلا ئوں سے بچنے کا طریق
جمعہ کی نما ز مسجد اقصی ٰ میں ادا کر نے کے بعد چند ایک گر دونو اح کے آدمیو ں نے بیعت کی ۔بیعت کے بعد حضر ت اقدس کھڑے ہو گئے اور آپ نے ان سے مخا طب ہو کر فر ما یا کہ :۔
جب آدمی تو بہ کر تا ہے تو خدا تعا لیٰ اس کے پہلے گنا ہ بخش دیتا ہے ۔ ۱ ؎ قر آن میں اس کا وعدہ ہے ہر طرح