ہو گی اور اندھیرابڑھتا جا وے گا اس کی حا لت دگر گو ں ہو تی جا وے گی یا زندہ ہی مر گئی ہے مگر جب اچا نک اس سے اس کا فرزند مل جا وے تو اس کی وہ حا لت کیسی ہو تی ہے ۔ ذرامقا بلہ کر کے تو دیکھو پس صر ف ایسی محبت ذاتی اور کا مل ایمان سے ہی انسا ن دارا لاما ن میں پہنچ سکتا ہے ۔سا رے رسول خدا تعا لیٰ کو اس لیے پیا رے نہ تھے کہ ان کو الہاما ت ہو تے تھے ان کے واسطے مکا شفا ت کے دروازے کھو لے گئے ہیں یا نہیں بلکہ ان کی ذاتی محبت کی وجہ سے وہ تر قی کر تے کر تے خدا کے معشوق اور محبوب بن گئے تھے ۔اسی واسطے کہتے ہیں کہ نبی کی نبو ت سے اس کی ولایت افضل ہے ۔
اسی لیے ہم نے اپنی جما عت کو با ر با ر تا کید کی ہے کہ تم کسی چیز کی بھی ہو س نہ رکھو ۔ پا ک دل اور بے طمع ہو کر خدا کی محبت ذاتی میں تر قی کر و ۔ب تک ذاتی محبت نہیں تب تک کچھ نہیں ۔مگر جو کہتے ہیں کہ ہم کو خدا سے ذاتی محبت ہے اور اس کے نشا ن ان میں نہیں پا ئے جا تے یہ ان کا دعو یٰ غلط ہے ۔کیا وجہ ہے کہ ایک مجا زی عا شق میں تو عشق کے آثا اور نشا نا ت کھلے کھلے پا ئے جا ئیں بلکہ کہتے ہیں کہ عشق چھپا ئے سے چھپ نہیں سکتا تو کیا وجہ کہ روحا نی عشق پو شیدہ رہ جا وئے ۔اس کچھ نشان ظاہر نہ ہو ں ۔دھو کا کھا تے ہیں ایسے لو گ ان میں محبت ہی نہیں ہوتی ۔
صحبت صادقین اختیارکرو
اسی واسطے اللہ تعا لیٰ فر ما تا ہے
کو نو امع الصادقین
یعنی صا دق لوگوں کی معیت اختیارکرو ۔ان کی صحبت میں مد تہائے درازتک رہو۔ کیو نکہ ممکن ہے کہ کو ئی شخص چند روز ان کے پا س رہ جا وے ۔اور ان ایا م میں حکمت الٰہی سے کو ئی ایسا امرواقع نہ ہو ۔کیو نکہ ان لو گو ں کے اختیار میں تو نہیں کہ جب چا ہیں کو ئی نشا ن دکھا دیں ۔اسی واسطے ضروری ہے کہ ان کی صحبت میں لمبا عر صہ اور درازمدت گذرجا وے بلکہ نشا ن دکھا نا تو درکنا ر یہ لو گ تو اپنے خدا کے سا تھ تعلقا ت کا اظہا ر بھی گنا ہ جا نتے ہیں ۔لکھا ہے اگر کو ئی ولی خلو ت میں اپنے خدا کے سا تھ خا ص حا لت اور تعلق کے جو ش میں ہو اور اس پر وہ حا لت طا ری ہو تو ایسے وقت میں اگر کوئی شخص اس کے اس حا ل سے آگا ہ ہو جائے تو وہ ولی شخص ایسا شرمندہ اور پسینہ پسینہ ہو جا تا ہے ۔جیسے کو ئی زانی عین زنا کی حا لت میں پکڑا جا وے کیو نکہ یہ لو گ اپنے راز کو پو شیدہ رکھنا چا ہتے ہیں ۔ چو نکہ طبعا ایسا معاملہ تھا خدالیٰ نے اسی واسطے کہا
کونو امع الصادقین
کفار نے جو یہ کہا
ھا کہ مالھذا الرسول الطعام ویمشی فی الاسواق (الفرقان :۸)
تو انہوں نے بھی تو آنحضرتﷺ کی ظاہری حالتدیکھ کر ہی یہ کلمہ منہ سے نکالا تھا کہ کیا ہے جی ۔یہ تو ہمارے جیسا آدمی ہی ہے ۔کھاتا پیتا بازاروں میں پھرتا ہے اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ اُن کو آنحضرت ﷺ کی صحبت کا فیض نہ تھا کہ اُن کو کوئی