مدار نجات نہ شبم نہ شب پرستم کہ حدیظ خواب گویم ۱؎ مدار نجات صرف یہی امر ہے کہ سچا تقویٰ اور خدا کی خوشنودی اور خالق کی عبادت کا حق ادا کیا جاوے ۔الہامات و مکاشفات کی خواہش کر نا کمزوری ہے ۔مرنے کے وقت جو چیز انسان کو لذت دِہ ہو گی وہ صرف خدا تعالیٰ کی محبت اور اس سے صفائی معاملہ اور آگے بھیجے ہوئے اعمال ہونگے جوایمان صادق اور ذاتی محبت سے صادر ہوئے ہوں گے ۔ من کان للہ کان اللہ لہ اصل میں جو عاشق ہو تا ہے ۔آخر کار ترقی کرتے کرتے وہ معشوق بن جاتا ہے کیونکہ جب کوئی کسی سے محبت کرتا ہے تو کی توجہ بھی اس کی طرف ہو جاتی ہے اور آخر کار ہو تے ہوتے کشش سے وہ اس سے محبت کر نے لگتا ہے اور عا شق معشو ق کا معشو ق بن جا تا ہے ۔جب جسما نی اور مجا زی عشق ومحبت کا یہ حا ل ہے کہ ایک معشو ق اپنے عا شق کا عا شق بن جا تا ہے تو کیا روحا نی رنگ میں جو اس سے زیا دہ کا مل ہے ایسا ممکن نہیں کہ جو خدا سے محبت کرنے والا ہو آخر کا ر خدا اس سے محبت کر نے لگے۔ اور وہ خدا کا محبوب بن جا وے ؟ مجا زی معشوقوں میں تو ممکن ہے کہ معشوق کو اپنے عا شق کی محبت کا پتہ نہ لگے مگر وہ خدا تعالیٰ علیم بذات الصدور ہے اس سے انسا ن مظہر کر اما ت الہیٰ اور مو ر د عنا یات ا یزدی ہو جا تا ہے اور خدا تعا لیٰ کی چا رد میں مخفی ہو جا تا ہے ۔ان مکا شفا ت اور رویا ئاور الہا ما ت کی طر ف سے تو جہ پھیر لو اور ان امو رکی طر ف خود جرات کر کے درخوا ست نہ کر و ایسا نہ ہو کہ جلد با زی کر نے والے ٹھہر و۔اکثر لو گ مر ے پا س آتے ہیں کہ ہمیں کو ئی ایسا وردوظیفہ بتا دوکہ جس سے ہمیں الہا ما ت اور مکا شفا ت ہو نے شر وع ہو جا ویں ،مگر میں انکو کہتا ہو ں کہ ایسا کر نے سے انسان مشرک بن جا تا ہے شر ک یہی نہیں کہ بتو ں کی پو جا کی جا وے بلکہ سخت شر ک اور بڑامشکل مرحلہ تو نفس کے بت کو تو ڑنا ہو تا ہے ۔تم ذاتی محبت خر ید واور اپنے اندروہ قلق وہ سو زش وہ گداز وہ رقت پیدا کر و جو ایک عا شق صادق کے اندرہو تی ہے ۔دیکھو کمزورایما ن جو طبع یا خوف کے سہارے پر کھڑاہو وہ کا م نہیں آتا۔بہشت کی طمع یا دوزخ کا خو ف وغیرہ امو ر پر ا پنے ایما ن کا تکیہ نہ لگا و بھلا کبھی کسی نے کو ئی عا شق دیکھا ہے کہ وہ معشوق سے کہتا ہو کہ میں تو تجھ پر اپنے واسطے عا شق ہو ں کہ تو مجھے اتنا روپیہ یا فلا ں شئے دیدے ۔ہر گز نہیں ۔دیکھو ایسی طبعی محبت پیدا کر لو جیسے ایک ما ں کو اپنے بچہ سے ہو تی ہے ۔ما ں کو نہیں معلو م ہو تا کہ وہ کیو ں بچہ سے محبت کر تی ہے ۔اس میں ایک طبعی کشش اور ذاتی محبت ہو تی ہے ۔ دیکھو اھر کسی ماں کا بچہ گم ہو جا وے اور رات کا وقت ہو تو اس کی کیا حا لت ہو تی ہے ۔جو ں جوں رات زیا دہ