خد اکی محبت میں محو ہو جائو مکاشفات اورالہامات کے ابواب کے کھلنے کے واسطے جلدی نہ کر نی چاہیئے اگر تمام عمر بھی کشوف اور الہامات نہ ہوں تو گھبرا نا نہ چاہیئے اگر یہ معلوم کر لو کہ تم ایک عاشقِ صادق کی سی محبت ہے جس طرح وہ اس کے ہجر میں اس کے فراق میں بھو کا مر تا ہے پیاس سہتا ہے نہ کھانے کی ہوش نہ پانی کی پرواہ ۔نہ اپنے تن بدن کی کچھ خبر اسی طرح تم بھی خدا کی محبت میں ایسے محو ہوجائو کہ تمہارا وجود ہی درمیان سے گم ہوجاوے پھر اگر ایسے تعلق میں انسان مَر بھی جاوے تو بڑا ہی خوش قسمت ہے ۔ہمیں تو ذاتی محبت سے کام ہے ۔نہ کشوف سے غرض نہ الہام کی پرواہ دیکھو ایک شرابی شراب کے جام کے جام پیتا ہے اور لذّت اُٹھا تاہے ۔اسی طرح تم اس کی ذاتی محبت کے جام بھر بھر کے پیو ۔جس طرح وہ دریا نوش ہوتا ہے اسی طرح تم بھی کبھی سیر نہ ہو نے والے بنو جب تک انسان اس امر کو محسوس نہ کر لے کہ مَیں محبت کے ایسے درجہ کو پہنچ گیا ہوں کہ اب عاشق کہلا سکوں تب تک پیچھے ہر گز نہ ہٹے ۔قدم آگے ہی آگے رکھتا جاوے اور اُس جام کو منہ سے نہ ہٹائے ۔اپنے آپ کو اس کے لیے بیقرار و شیدا و مضطرب بنالو ۔اگر اس درجہ تک نہیں پہنچے تو کوڑی کے کام کے نہیں ۔ایسی محبت ہوکہ خدا کی محبت کے مقابل پر کسی چیز کی پرواہ نہ ہو ۔نہ کسی قسم کی طمع کے مطیع بنو اور نہ کسی قسم کے خوف کا تمہیں خوف ا ؎ ہوچناچہ کسی کا شعر ہے کہ ؎ آنکہ تراشناخت جاں راچہ کُند فرزند و عیال خانماں راچہ کُند دیوانہ کنی ہر دو جہانش بخشی دیوانہ ہر دو جہاں راچہ کُند مَیں تو اگر اپنے فرزند کاذکر کرتا ہوں تو نہ اپنی طرف سے بلکہ مجھے تو مجبوراً کرنا پڑتا ہے ۔کیا کروں اگر اس کے انعامات کا ذکر نہ کروں تو گنہگار ٹھہروں ۔چناچہ ہر لڑکے کی پہلے اُسی نے خود اپنی طرف سے بشارت دی ۔اب میں کیا کروں ۔غرض انسان کا اصل مدعاتو صرف یہی چاہیئے کہ کسی طرح خدا کی رضا مل جاوے۔