انسا ن کو مشکلا ت کے وقت اگر چہ اضطرا ب ہو تا ہے مگر چا ہیئے کہ تو کل کو کبھی بھی ہا تھ سے نہ دے ۔ آنحضر ت ﷺ کو بھی بد ر کے مو قع پر سخت اضطرا ب ہوا تھا ۔ ۱ ؎ چنانچہ عرض کرتے تھے یاَرَب ان اھلکت ھذہ العصابۃ فلن تعبد فی الار ض ابدا مگر آپ کا اضطراب فقط بشریٰ تقا ضا سے تھا کیو نکہ دوسری طرف توکل کو آپ نے ہرگز ہاتھ سے نہ جانے دیا تھا آسمان کی طرف نظر تھی اور یقین تھا کہ خدا تعالیٰ ہرگز مجھے ضائع نہیں کرے گا ۔یاس کو قریب نہیں آنے دیا تھا ایسے اضطرابوں کا انا تو انسانی اخلاقاور مدارج کی تکمیل کے واسطے ضروری ہے مگر انسان کو چاہیے کہ یاکو پاس نہ آنے دے کیونکہ یاس تو کفار کی صفت ہے ۔انسان کو طرح طرکے خیالات اضطراب کا وسوسہ ڈالتے ہیں مگر ایمان ان وساس کو دور کر دیتا ہے بشریت اضطراب خریدتی ہے اور ایمان اس کو دفع کرتا ہے ایمان وعرفان کی حقیقت دیکھو ایمان جیسی کوئی چیز نہیں ۔ایمان سے عر فا ن کا پھل پیدا ہو تا ہے ۔ایمان تو مجاہدہ اور کو شش کو چاہتا ہے اور عر فا ن خدا تعالیٰ کی موہبت اور انعام ہو تا ہے عرفان سے مراد کشوف اور الہامات جو ہر قسم کی شیطانی آمیزش اورظلمت کی ملونی سے مبّرا ہوں اور نو ر اور خدا کی طرف سے ایک شوکت کے ساتھ ہو ں وہ مراد ہیں اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کی طرف سے موہبت اور انعام ہو تا ہے۔یہ چیز کچھ کسی چیز نہیں مگر ایمان کسبی چیز ہو تا ہے اسی واسطے اوامر ہیں کہ یہ کرو ۔غرض ہزاروں احکام ہیں اور ہزاروں نواہی ہیں ۔ان پر پوری طرح سے کار بند ہو نا ایمان ہے۔ غرض ایمان ایک خدمت ہے جو ہم بجالاتے ہیں اور عر فان اس پر ایک انعام اور موہبت ہے۔ انسان کو چاہیئے کہ خدمت کئے جاوے ۔آگے انعام دینا خدا کا کام ہے یہ مومن کی شان سے بعید ہو نا چاہیئے کہ وہ اس انعام کے واسطے خد مت کرے۔