کہ لبوں کے کتر ے سے مر اد انکسا ری اور توا ضع ہے زیا دہ لب رکھنا تکبر کی علا مت ہے جیسے انگزیز اور سکھ وغیر ہ رکھتے ہیں پیغمیبر خدا نے اسی لیے اس سے منع کیا ہے تکبر نہ رہے اسلا م تو توا ضع سکھا تا ہے جو خواب میں دیکھے تو اس میں فر وتنی بڑھ جا وے گی ۔ (البد جلد ۲ نمبر ۸ صفحہ ۶۰ مو رخہ ۱۳ ما رچ ۱۹۰۳ئ)
۵ما رچ ۱۹۰۳ئ
(دربا رشا م )
حضرت اقدس نے فا رسی میںفر ما یا لہذاس کا تر جمہ لکھا جا تا ہے :۔
دوستو ں کی جدا ئی پر غمگین ہو نا
خدا ئے تعالیٰ ۱ ؎ نے یہ با ت میر ے دل میں ڈالی ہے اور میر ی فطرت میں رکھ دی ہے کہ جب کو ئی دوست مجھ سے جدا ہو نے لگتا ہے مجھے سخت قلق اور درد محسو س ہو تا ہے میں خیا ل کر تا ہو ں کہ خدا جا نے زندگی کا بھر وسہ نہیں ۔پھر ملا قا ت نصیب ہو گی یا نہیں پھر میرے دل میں خیا ل آجاتا ہے کہ دوسروں کے بھی تو حقوق ہیں ۔بیو ی ہے ،بچے ہین اور شتہ دار ہیں ۔مگر تا ہم جو شند روز بھی ہما رے پا س رہتا ہے اس کے جدا ہو نے سے ہما ری طبیعت کو صدمہ ضرور ہو تا ہے ہم بچے تھے اب بڑھا پے تک پہنچ گئے ہیں ہمنے تجر بہ کر کے دیکھا ہے کہ انسا ن کے ہا تھ میں کچھ بھی نہیں بجنراس کے کہ انسا ن خدا کے سا تھ تعلق پیدا کر لے ۔
دُعا اَور تو کّل
سا ری عقد ہ کشا ئیا ں دعا کے سا تھ ہو جا تی ہیں ۔ہما رے ہا تھ میں بھی اگر کسی کی خیر خوا ہی ہے تو کیا ہے ۔صرف ایک دعا کا آلہ ہی ہے جو خدا نے ہمیں دیا ہے کیا دوست کے لیے اور کیا دشمن کے لیے ہم سیا ہ کو سفید اور سفید کو سیا ہ نہیں کر سکتے ۔ہما رے بس میں ایک ذرہ بھر بھی نہیں ہے ۔مگر جو خدا ہمیں اپنے فضل سے عطا کر دے۔