۴ مارچ ۱۹۰۳ء
(صبح کی سیر)
جو خد اکے واسطے کھوتا ہے اُسے ہزار چند دیا جاتا ہے
فرمایا کہ
جو شخص خدا کی طرف قدم اُٹھا تا ہے( اس پر) خدا سے نور اترتا ہے۔(وہ)اپنے فرشتوں کو اس کی خدمت کے واسطے مامور فرماتا ہے ۔جو اس ے واسطے کچھ کھوتا ہے اس کو اس سے ہزار چند دیا جاتا ہے۔دیکھو صحابہؓ میں سے سب سے پہلے حضر ت ابو بکر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے اپنا سا را ما ل اللہ تعا لیٰ کی راہ میں خر چ کر دیا تھا اور کمبل پو ش بن پھر ا تھا ۔مگر جب اللہ تعا لیٰ نے اسے دیا تو کیا دیا ۔دیکھ لو کیسی منا سبت ہے کہ اس نے چو نکہ سب صحابہؓ سے اول خر چ کیا تھا اسے سب سے پہلے خلا فت کا تخت عطا کیا گیا ۔غر ض خدا کو ئی بخیل نیئں اور نہ اس کے فیض خا س خا ص ہیں ۔بلکہ ہر ایک جو صدق دل سے طا لب بنتا ہے ۔اسے عزت دی جا تی ہے یہ ہما رے دشمن تو اللہ تعا لیٰ سے جنگ کر تے ہیں بھلا ان سے آسما نی با تیں اور تا ئید ات رو کی سکتی ہیں ۔ہر گز نہیں پر نا لہ کے پا نی کو تو کو ئی رو ک بھی سکتا ہے مگر آسما ن سے مو سلا دھار با رش ہو نے لگ جا وے ۔ اس کو کو ن رو ک سکے گا اور اس کے آگے کو نسا نبد لگا ویں گے ؟ ہما را تو سا را کا روبا ر ہی آسما نی ہے پھر بھلا کسی کی کیا نجا ل کہ اس میں کسی کا حر ج یا خلل واقع کر سکے ۔
البد میں بعض مزید با تو ں کا ذکر ہے وہا ں لکھا ہے کہ حضور نے فر ما یا۔تجربہ ہے کہ جب ہند ووں میں سے مسلمان ہو تے ہیں تو وہ متقی ہو تے ہیں جیسے مو لو ی عبید اللہ صا حب ۔سنا تن دہر م والے زواید کو چھوڑ کر وہ تما م با تیں ما نتے ہیں جن کے ہم قا ئل ہیں ۔خدا کو ما نتے ہیں ۔ فر شتو ں پر بھی ان کا ایما ن ہے نیو گ کے سخت مخا لف ہیں ۔ جو لو گ اخلا ص سے اسلام میں داخل ہو تے ہیں ۔وہ کو ئی شرط نہیں با ند ھتے جو شر طیں پیش کر کے اسلا م لا نا چا ہتا ہے وہ ضرور کھو ٹ رکھتا ہے ۔ (البد جلد ۲ نمبر ۸ صفحہ ۶۰ مو رخہ ۱۳ ما رچ ۱۹۰۳ئ)
لمبی مو نچھوں کی تعبیر
ایک خوا ب کی تعبیر میں فر ما یا کہ
اصل میں زیا دہ لمبی لمبی( مو نچھیں) رکھنا بھی تکبر اور نجو ت کو بڑھا تا ہے اسی واسطے شر لعیت اسلا م نے فر ما یا ہے کہ مو نچھیںکٹواو اور داڑھی کو بڑھا و ۔یہ یہوداور عسیا ئی اور ہندووں کا کام ہے کہ وہ اکثرتکبر سے مو نچھوں کو بڑھا تے ہیں اور تا ودے کر ایک متکبرانہ وضع بنا تے ہیں خصو صا سکھ لو گ ۔مگر ہما ری شر لعیت کیا پا ک ہے کہ جس جگہ سے کاکسی قسم کی بدی کا احتما ل بھی تھا اس سے بھی منع کر دیا ۔بھلا یہ با تیں کسی اور میں کہا ں پا ئی جا تی ہیں ۔ (الحکم جلد ۷نمبر ۱۰صفحہ۲مو رخہ۱۷ ما رچ ۱۹۰۳ئ)
البد ر میں ہے :۔ ایک صا حب نے عرض کی کہ خو ا ب میںمیں نے اپنی مو نچھوں کو کتر ے ہو ئے دیکھا ہے فر ما یا