چاہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کی کوئی پیشگوئی پوری نہ ہو ۔یہ سب اندرونی مشان ہیں ۔اب بیرونی دیکھئے کہ صلیب کا غلبہ کس قدر ہے۔نصاریٰ نے تردید اسلام میں کیا کیا کوششیں کی ہیں اور خود اندرونی طور پر تقویٰ ،زہد، ریاضت میں فرق آگیا ہے۔ برائے نام مسلمان ہیں ۔جھوٹی گوہیاں دیتے ہیں ۔خیانتیں کر تے ہیں ۔قرضہ لے کر دبا لیتے ہیں ۔اگر خدا کو یہ منظور ہو تا کہ اسلام ہلاک ہو جاوے اور اندرونی اور بیرونی بلائیں اُسے کھا جائیں تو وہ کسی کو پیدا نہ کرتا ۔اس کا وعدہ انا نحن نز لنا الذکر وانالہ لحافظون (الحجر :۱۰) کا کہاں گیا ؟اوّل تو تاڑ تاڑ مجدّد آئے مگر جب مسلمانوں کی حالت تنزّل میں ہوئی بد اطواری تر قی کر تی جاتی ہے سعادت کا مادہ ان میں نہ رہا اور اسلام غرق ہو نے لگا تو خدا نے ہاتھ اُٹھا لیا ؟جب کہو تو یہی جواب ہے کہ حدیثو ں میں لکھا ہے کہ تیس دجّال آئیں گے ۔یہ بھی ایک دجّال ہے ۔او کمبختو ! تمہاری قسمت میں دجّال ہی لکھے ہیں ؟غرض یہ باتیں غور کے قابل ہیں مگر دل کے کھول نے کی کُنجی خدا کے ہاتھ میں ہے ۔جبتک وہ نہ کھولے دل میں اثر نہیں ہو تا ۔ ابو جہل بھی چودہ برس تک باتیں سنتاہی رہا۔یہی ہماری جماعت ہے اس کی کون سی عقل زیادہ ہے کہ انہوں نے حقیقت کو سمجھ لیا اور بعضوں نے نہ سمجھا ایسے ہی دماغ اعضاء وغیرہ باقی سب مخالفوں کے ہیں مگر وہ اس حقیقت کو نہیں پہنچے۔انکے دلوں کو قفل لگے ہیں ۔ دکانداری کا جواب مختلف اعتراضات کے جوب پر فرمایا کہ:۔ اسے دکانداری کہتے ہیں۔ ہے تو دکان مگر خدا کی اگر انسان کی ہو تی تو دیوالہ نکل جاتا ٹوٹ جاتی مگر خدا کی ہے جو محفوظ ہے۔ ہمارے گروہ کی خدا نے خود مدد کی ہے کہ جلدی ترقیدی کہ یہ مسجدوں کے مُلاں وغیرہ جب دیکھیں گے کہ اب اُن کی تعداد بہت ہے خود ہی ہاں میں ہاں ملا دیں گے۔ (قبل از عشائ) ایک خانساماں کی استقامت بٹالہ میں ایک خانساماں جو مشنری لیڈی کے ہاں ملازم تھا۔حضرت صاحب کا خادم تھا ۔مشنری لیڈی نے اُسے اس تعصّب کے باعث بر خواست کر دیا حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔ اگر مکھن کھاتے دانت جاتے ہیں تو جاویں ۔ ( مشنری لیڈی نے اُسے کہاتھا کہ تم اتنی دیر ہمارے پاس رہے اور اثر نہ ہوا ۔اس پر حضرت نے فر مایا کہ اثر تو ہوا کہ اس نے مقابلہ کر کے دیکھ لیا کہ حق اِدھر ہے۔ ) (البدر جلد ۲نمبر۸ صفحہ۵۹،۶۰ مورخہ۱۳ مارچ ۱۹۰۳؁ئ)