نہ طریق سُنّت ہے۔اگر منع کرو تو غیظ وغضب میں آتے ہیں اور دشمن بن جاتے ہیں ۔چونکہ یہ آخری زمانہ ہے ایسا ہی ہو نا چاہیئے تھا لیکن اسی زمانہ کے فسادوں کے لحاظ سے آنحضرت ﷺ نے فر مایا تھا کہ اس زمانہ میں اکیلا رہنا اور اکیلا مرجانا یا درختوں سے پنجہ مار کو مر جا نا ایسی صحبتوں سے اچھا ہے ۔ہم دیکھتے ہیں کہ سب چیزیں پوری ہو رہی ہیں انسان دوسروں کے سمجھائے کچھ نہیں سمجھتا ۔دل میں کسی بات کا بٹھا دینا یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے ۔حدیث شریف میں ہے کہ خدا جب کسی سے نیکی کرتا ہے تو اسے کچھ عطا کرتا ہے ۔اس کے دل میں فراست پیداہو جاتی ہے اور دل ہی معیار ہو تا ہے مگر محجوب دل کام نہیں آتا۔یہ کام ہمیشہ پاک دل سے نکلتا ہے۔ من کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی (بنی اسرائیل:۷۳) ان باتوں کے لئے دُعا کر نی چاہیئے۔ نیک اعمال کیلئے صحبت ِصادقین کی ضرورت ہے خد اکے فضل کے سوا تبدیلی نہیں ہو تی اعمالِ نیک کے واسطے صحبت ِصادقین کا نصیب ہو نا ضروری ہے ۔یہ خدا کی سنت ہے ورنہ اگ ر چاہتا تو آسمان سے قرآن یو نہی بھیج دنتا اور کوئی رسول نہ آتا ۔مگر انسان کو عمل درآمد کے لئے نمونہ کی ضرورت ہے ۔پس اگر نمونہ نہ بھیجتا رہتا تو حق مشتبہ ہو جا تا ۔ مخالفت کی وجہ اب اس وقت علماء مخالف ہیں ۔اس کی وجہ کیا ہے ؟صرف یہی کہ میں بار بار کہتا ہو ں کہ یہ تمہارے عقیدے وغیرہ سب خلافِ اسلام ہیں۔اس میں میرا کیا گناہ ہے ؟مجھے تو خدا نے مامور کیا ہے اور بتلایا ہے کہ ان غلطیوں کو نکال دیا جاوے اور منہاجِ نبوت کو قائم کیا جاوے ۔اب لوگ میرے مقابلہ پر قصّہ کہانیاں پیش کرتے ہیں ۔حالانکہ مجھے خود ہر ایک امر بذریعہ وحی والہام بتلایا جاتا ہے ۔ان کے کہنے سے میَں اسے کیسے چھوڑدوں ؟ان کا عقیدہ ہے کہ جب مسیح آویگا تو جس قدر غلطیاں ہو ں گی ان کو نکال دیگا اگر اس نے سب کچھ انہیں کا قبول کنا ہے اور اپنی طرف سے کچھ نہیں کہنا تو بتلائو کہ پھر اس کا کام کیا ہو گا ؟ آنحضرت ﷺ کے وقت میں بھی یہی طریق ایسے لو گوں کا تھا کہ دور بیٹھے شور مچاتے اور پاس آکر نہ دیکھتے ۔ابو جہل نے مخالفت تو سالہاسالکی مگر پیغمبرخدا کی صحبت میں ایک دن بھی نہ بیٹھا حتٰی کہ مر گیا ۔اس لئے خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے ولا تقف ما لیس لک بہہ علم اب ان سے پوچھا جاوے کہ بلا تحقیق کے کیوں فتوے لگاتے ہو؟ علامات ظہور مہدی ومسیح کا پورا ہونا یہ خود کہتے تھے کہ صدی کے سر پر آنے والا ہے۔پھر انہیں کی کتا بوں میں لکھا ہوا تھا کہ کسوف وخسوف ہو گا ۔طاعون پڑے گی ۔حج بند ہو گا ۔ایک ستارہ جو مسیح کے وقت نکلا تھا نکل چکاہے ۔اونٹوں کی سواری بیکار ہو گئی ہے۔ اسی طرح سب علامتیں پوری ہو گئی ہیں، مگر ان لو گوں کا یہ کہنا کہ ابھی مسیح نہیں آیا یہ معنے رکھتا ہے کہ یہ لوگ