کہ اللہ اور اس کے رسول کے فرمودہ کے باہر نہ جانا چاہیئے۔ کتا ب اللہ کے خلاف جو کچھ ہو رہاہے وہ سب بدعت ہے اور سب بدعت فی النّار ہے۔اسلام اس بات کا نام ہے کہ بجُز اس قانون کے جو مقرر ہے اِدھر اُدھر نہ جاوے ۔کسی کا کیا حق ہے کہ باربار ایک شریعت بناوے ۔ بعض پیر زادے چوڑیاں پہنتے ہیں ۔ مہندی لگاتے ہیں ۔لال کپڑے ہمیشہ رکھتے ہیں ۔سَدا سہاگن ان کا نام ہو تا ہے ۔اب ان سے کو ئی پوچھے کہ آنحضرت ﷺ تو مرد تھے۔اس کو مرد سے عورت بننے کی کیا ضرورت پڑی؟ ہمارا اُصول آنحضرت ﷺ کے سوا اور کتاب قرآن کے سوا اور طریق سُنّت کے سوا نہیں ۔کس شئے نے ان کو جرأت دی ہے کہ اپنی طرف سے وہ ایسی باتیں گھڑ لیں۔بجائے قرآن کے کا فیاں پڑھتے ہیں جس سے معلوم ہو تا ہے کہ ان کا دل قرآن سے کھٹا ہو ا ہوا ہے ۔خدا تعالیٰ فر ماتا ہے جو میری کتا ب پر چلنے والا ہو وہ ظلمت سے نور کی طرف آویگا اور کتا ب پر اگر نہیں چلتا تو شیطان اس کے ساتھ ہو گا ۔ بندگانِ خدا کی علامت مگر جو خدا کے بندے ہو تے ہیں ان میں خوشبو اور بر کت ہو تی ہے فر یب اور مکر سے اُن کو کوئی غرض نہیں ہو تی ۔جیسے آفتاب اُسے چمکتا ہوا نظر آتا ہے ایسے ہی دور سے اس کی چمک دکھائی دیتی ہے اور دنیا میں اصلا چمک انہیں کی ہے ۔یہ آفتاب اور قمر وغیرہ تو صرف نمونہ ہیں ۔ان کی چمک دائمی نہیں ہے کیو نکہ یہ غروب ہو جاتے ہیں لیکن وہ غروب نہیں ہو تے ۔جس کو خدا اور رسول کی محبت کا شوق ہے اور ان کے خلاف کو پسند نہیں کرتا اور عفونت اور بد بو کو محسوس کرنے کا اس میں مادہ ہو وہ فوراً سمجھ جائے گا کہ یہ طریق اسلام سے بہت بعید ہے ۔مثلِ یہود کے خدا نے انکو چھوڑ دیاہے۔ بلعم کی طرح اب مکر وفریب کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں رہا۔ صفائی والا انسان جلد دیکھ لیتا ہے کہ یہ جسم اس حقیقی رُوح سے خالی ہے۔ سجادہ نشینوں کے پَیرو سو چیں انسان توجہ کرے تو پتہ لگتا ہے کہ جو لوگ صمّ’‘ بکمّ’‘ ہو کر سجادہ نشینوں کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہیں اور عرسوں وغیرہ میں شریک ہو جاتے ہیں ۔اُن کو یہ خیال نہیں آتا ۔کہ وہ کونسی روشنی ہے جو خانہ کعبہ سے شروع ہوئی تھی اور تمام دنیا میں پھیلی تھی اور انہوں نے اس میں سے کس قدر حصّہ لیا ہے۔ان کو ہرگز وہ نور نہیں ملتا جو آنحضرت ﷺ مکہ سے لائے اواس سے کُل دنیا کو فتح کیا ۔آج اگر رسول اللہ ﷺ پیداہوں تو ان لوگوں کو جو اُمت کا دعویٰ کرتے ہیں کبھی شناخت بھی نہ کر سکیں ۔کونسا طریقہ آپ کا ان لوگوں نے رکھا ہے۔ شریعت تو اسی بات کا نام ہے کہ جو کچھ آنحضرتؐ نے دیا ہے اُسے لے لے۔اور جس بات سے منع کیا ہے اس سے ہٹے۔ اب اس وقت قبروں کا طواف کرتے ہیں اُن کو مسجد بنایا ہو ا ہے ۔عر س وغیرہ ایسے جلسے نہ منہاجِ نبوت ہے