طاقت انسان کے اندر ہے۔ اس کے اُوپر وساوس اور شبہات پڑتے ہیں ۔عادتوں کے کیڑے برتن کی میل کی طرح انسان کے اندر چمٹے ہو ئے ہیں ۔اس کا علاج یہی ہے کہ کو نو مع الصادقین۔ پس اگر آپ چند روز یہاں ٹھہر جاویں تو اس میں آپ کا کیا حرج ہے؟اس طح ہر ایک بات کا موقعہ آپ کو مل جائیگا دُنیا کے کا م تو یو نہی چلے چلتے ہیں۔ کارِ دُنیا کسے تمام نہ کرد ہر چہ گیر ید مختصر گیر ید بہت لوگ ہمارے پاس آئے اور جلد رُخصت ہو نے لگے۔ ہم نے اُن کو منع کیا مگر ہوہ چلے گئے۔ آخر کار پیچھے سے انہوں نے خط روانہ کئے کہ ہم نے گھر پہنچ کر بنایا تو کچھ نہیں اگر ٹھہر جاتے تو اچھا ہو تا اور انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ہمارا جلدی آنا ایک شیطانی وسوسہ تھا۔ مسیح ِموعود کی صحبت میں رہنے کی تا کید یہ مرحلہ اس لئے قابلِ طے ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بڑی تاکید فرمائی ہے کہ جب دنیا ختم ہو نے پر ہو گی تو اس اُمّت میں مسیح موعود پیدا ہو گا ۔لوگوں کو چاہیئے کہ اس کے پاس پہنچیںخواہ ان کو برف پر چل کر جانا پڑے۔ اس لیے صحبت میں رہنا ضروری ہے کیو نکہ یہ سلسلہ آسمانی ہے ۔پاس رہنے سے باتیں جو ہوں گی ان کو سنیگا جو کوئی نشان ظاہر ہو اُسے سوچے گا ۔آگے ہی زندگی کا کونسا اعتبار تھا مگر اب تو جب سے یہ سلسلہ طاعون کا شروع ہو اہے کو ئی اعتبار مطلق نہیں رہا۔ آپ نفس پر جبر کر کے ٹھہریئے اور جو شبہ وخیال پیداہو وہ سناتے رہیئے ۔اَن پڑھ اور اُمّی لوگ جو آتے ہیں ان کی باتیں اور شبہات کا سننا بھی ہمارا فرض ہے۔ اس سے آپ بھی اپنے شبہات ضرور سنایئے یہ ہم نہیں کہتے کہ ہدایت ہو نہ ہو ۔ہدایت تو امرِربیّ ہے ۔کسی کے اختیار یمیں نہیں ہے۔ مسلمان کون ہے؟ یہ بات سمجھنے والی ہے کہ ہر ایک مسلمان کیوں مسلمان کہلاتا ہے؟ مسلمان وہی ہے جو کہتا ہے کہ اسلام برحق ہے ۔حضرت محمدﷺ نبی ہیں قرآن کتابِآسمانی ہے ۔اس کے معنے ہوتے ہیں کہ میں اقرار کرتا ہوں کہ میں ان سے باہر نہ جائوں گا ۔نہ عقیدہ میں نہ عبادت میں ۔نہ عملدرآمد میں ۔میری ہر بات اور عمل اس کے اندر ہی ہو گا ۔ گدی نشین اور بدعات اب اس کے مقابل پر آپ انصاف سے د یکھیں کہ آج کل گدی والے اس ہدایت کے موافق کیا کچھ کرتے ہیں ۔اگر وہ خدا کی کتاب پر عمل نہیں کرتے توقیامت کو اس کا جواب کیا ہو گا کہ تم نے میری کتاب پر عمل نہ کیا ۔اس وقت طوافِ قبر ،کنجریوں کے جلسے اور مختلف طریقے ذکر جن میں سے ایک ارّہ کا ذکر بھی ہے ہوتے ہیں ۔لیکن ہمارا سوال ہے کہ کیا خدا بھُول گیا تھا کہ اس نے یہ تمام باتیں کتاب میں نہ لکھ دیں ۔نہ رسول کو بتائیں۔ جو رسول ﷺ کی عظمت جانتا ہے اسے ماننا پڑیگا