آپ کو اس کا محتاج خیال کرتا رہے تب اللہ تعالیٰ اُسے اُٹھاتا اور نوازتاہے ورنہ جب وہ اپنی قوتِ بازوپر بھروسہ کرتا ہے تو وہ ذلیل کیا جا تا ہے ۔ ۱؎
صادق کی معیت
کونو مع الصادقین (التوبہ : ۱۱۹)
بھی اسی واسطے فرمایا گیا ہے ۔سادھ سنگت بھی ایک ضربالمثل ہے ۔پس یہ ضروری باتہے کہ انسان باوجود علم کے اور باوجود قوت اور شوکت کے امام کے پاس ایک سادہ لوح کی طرح پڑا رہے تا اس پر عمدہ رنگ آوے ۔سفید کپڑا اچھا رنگا جا تا ہے اور جس میں اپنی خودی اور علم کاپہلے سے میل کچیل ہوتا ہے اس پر عمدہ رنگ نہیں چڑھتا ۔صادق کی معیت ۱؎ میں انسان کی عقدہ کشائی ہو تی ہے اور اسے نشانات دیئے جاتے ہیں جن سے اس کا جسم منور اور رُوح تا زہ ہو تی ہے۔ (الحکم جلد۷نمبر۹صفحہ۱۳ مورخہ۱۰ مارچ ۱۹۰۳ئ)
۳ مارچ ۱۹۰۳ء
(بوقت سیر)
حضرت صاحب تشریف لائے تو کل کے نووارد مہمان بھی ہمراہ سیر کو چلے آپ نے انکو مخاطب کرکے فر مایا :۔
زندگی کا اعتبار نہیں ہے۔ ایک دن آنے کا ہے اور ایک دن جانے کا معلو م نہیں کب مرنا ہے ۔علم ایک