رہنا کیسا بد قسمتی کا موجب ہو گا ۔وقت نازک ہے ۔دنیا نے جس امر کو سمجھنا چاہیئے تھا اسے نہیں سمجھااور جس کی طرف توجہ کرنی چاہیئے تھی اس کو پسِ پُشت ڈال دیا ہے ۔ خدا تعالیٰ کے فرستادہ کی تلاش ضروری تھی۔دیکھو دنیوی ضرورتوں کے واسطے کس طرح دنیا کو شش کر تی اور جانکاہ محنتوں سے ان کے حصول کے ذریعہ کو سوچتی ہے۔ مگر دین کیا ایسا ہی گیا گذرا امر ہے کہ اس کے واسطے اتنی بھی تکلیف نہ بر داشت کی جاوے کہ چند روز کے واسطے ایک جگہ رہ کر اسلام کی تحقیق کی جاوے ۔ایک بیمار انسان جب کسی طبیب کے پاس جاتا ہے تو مریض کی اگر طبیب تشخیص کر بھی لیوے تو معالجہ میں بڑی دقتیں پیش آتی ہیں کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا دوا دی جاوے۔
ضرورتِ الہام
ایک شہر میں پہنچ کر انسان پھر بھی خاص جگہ پر پہنچنے کے واسطے کسی رہبر کا محتا ج ہو تا ہے تو کیا دین کی راہ معلوم کر نے اور خداکی مرضی پانے کے واسطے انسانی ڈھکونسلے کام آسکتے ہیں؟ اور کیا سفلی عقل کافی ہو سکتے ہے؟ ہر گز ہرگز نہیں جب تک اللہ تعالیٰ خود اپنی راہ کو نہ بتاوے اور اپنی مرضی کے وسائل کے حصول کے ذریعہ سے مطلع نہ کرے تب تک انسان کچھ کر نہیں سکتا ۔دیکھو جبتک آسمان سے پانی نازل نہ ہو زمین بھی اپنا سبزہ نہیں نکالتی گو بیج اس میں موجود ہی کیوں نہ ہو ۔بلکہ زمین کا پانی بھی دوُر چلا جاتا ہے تو کیا رُوحانی بارش کے بغیر ہی رُوحانی زمین سر سبز ہو جاتی اور بار آور ہو سکتی ہے؟ ہر گز نہیں ۔خدا کے الہام کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا ۔دیکھو یہ جو اتنے بڑے عاقل کہلاتے ہیں اور بڑے مو جد ہیں آئے دن تار نکلتی ہے ریل بنتی ہے اور انسانی عقل کو حیران کر دینے والے کا م کئے جاتے ہیں کیا ان کی عقل کے برابر بھی کوئی اورعقل ہے؟جب ایسے عاقل لوگوں کا یہ حال ہے کہ ایک عاجز ا نسان کو جو ایک عورت کے پیٹ سے عام لڑکوں کی طرح سے پیدا ہو اتھا اور اسی طرح عوارض وغیرہ کا نشانہ بنا رہا اور کھانا پینا سب کچھ کرتا ہو ایہودیوں کے ہاتھ سے سولی پر چڑھا یا گیا تھا اس کو خداوند بنایا ہو اہے اور اس کے کفارہ سے اپنی نجات جانتے ہیں اور ایسی بودی چال اختیا رکی ہے کہ ایک بچہ بھی اس پر ہنسی کرے۔اس کی کیا وجہ تھی؟صرف یہی کہ انہوں نے سفلی عقل پر ہی بھروسہ کیا اور ایک کوے کی طرح نجاست پر گر پڑے۔
دیکھو جب انسان خدا سے مدد چاہتا ہے اور اپنے آپ کو عاجز جانتا ہے اور گردن فرازی نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ خود اس کی مدد کر تا ہے ایک مکھی ہے کہ گندگی پر گر تی ہے اور دوسری کو خدا نے عزت دی کہ سارا جہان اس کا شہد کھاتا ہے یہ صرف اس کی طرف جھکنے کی وجہ سے ہے ۔پس انسان کو چاہیئے کہ ہر وقت
ایاک نعبد وایاک نستعین (الفاتحہ :۵ )
پر کار بند رہے اور اسی سے توفیق طلب کرے۔ ایساکرنے سے انسان خدا کی تجلیات کا کظہر بھی بن سکتا ہے۔چاند جب آفتاب کے مقابل ہوتا ہے تو اُسے نُور ملتا ہے مگر جوں جوں اس سے کنارہ کشی کرتا ہے توں توں اندھیرا ہو تا جاتا ہے۔یہی حال ہے انسان کا جب تک اس کے دروازہ پر گرارہے اور اپنے