شدائد اور بلائوںسے دوُر ہو تا ہے۔جو خدا کا مقرب ہو تا ہے اسے کبھی خدا کے قہر کی آگ نہیں کھاتی ۔دیکھو انبیاء کے وقت میں وبائیں اور طاعون سخت ہوتے رہے مگر کوئی بھی نبی ان عذابوں میں ہلاک نہیں ہوا۔ صحا بہؓ کے وقت میں بھی طاعون پڑا ۔اور بہت سے صحابہ ؓ اس سے شہید بھی ہوئے مگر اس وقت وہ صحابہ کے واسطے شہادت تھی کیونکہ صحابہ ؓاپنا کا م پورا کر چکے تھے اور اعلیٰ درجہ کی کامیابی اُن کو ہوچکی تھی اور نیز وہ کوئی تحدّی کا وقت بھی نہ تھا اور مرنا توہر انسان کے ساتھ لازمی لگا ہوا ہے۔اسی ذریعہ سے خداتعالیٰ کو اُن کی موت منظور تھی ۔ان کے واسطے شہادت تھی۔مگر جب کسی عذاب کے واسطے پہلے سے خبر دی جاوے کہ خدا آسمان سے اپنی ناراضگی کی وجہ سے قہر نازل کرے گا تو ایسے وقت میں وہ وبا رحمت نہیں۔ اور شہادت نہیں ہو کرتی بلکہ لعنت ہو اکرتی ہے پس خدا کی طرف دوڑو اسی کے پاس معالجے ہیں اور بچائو کے سامان ہیں۔ (الحکم جلد ۷نمبر ۹ صفحہ۱۲ ،۱۳ مورخہ ۱۰ مارچ ۱۹۰۳؁ئ) ماننے کے قابل حدیث اور خواب ظہر کے وقت ایک شخص نے ایک پراگندہ سی خواب لکھ کر حضور سے تعبیر پو چھی تھی ۔اس پر آپ نے فر مایا کہ:۔ جس طرح سے حدیث ماننے کے قابل نہیں ہو تی جب تک قرآن کے موافق نہ ہو ۔اسی طرح کو ئی خواب بھی ماننے کے لائق نہیں جب تک ہمارے موافق نہ ہو ۔ عصر کے وقت چند سکھ حضرت اقدس کی ملاقات کے واسطے آئے اور اثناء ذکر میں آپ نے فرمایاکہ زبان سے تو ایک انسان بھی اپنا بندہ نہیں بن سکتا خدا کیسے بن سکتا ہے۔محبت ہو گی تو سانجھ ہو گی کھوٹ سے کوئی خدا سے کیا لے سکتا ہے۔ (البدر جلد ۲نمبر۸ صفحہ۵۸ مورخہ۱۳ مارچ ۱۹۰۳؁ئ) دربا ر شام خدا تعالیٰ کے فرستادہ کی تلاش ضروری تھی ایک صاحب نووار د ۱؎ تھے آپ نے اُن سے فر مایا :۔ دیکھودُنیا چند روزہ ہے کسی کو بقا نہیں اور یہ دُنیا اور اس کا جاہ وجلال ہمیشہ نہیں رہنے والے ۔چاہئے کہ اس وقت جو اللہ تعالیٰ یہ سلسلہ قائم کیا ہے اس کو سمجھا جاوے ۔اگر وہ درحقیقت خدا ہی کی طرف سے ہے تو اس سے دور