ضد اور تعصب سے کا م لیتا ہے میں نے خدا سے عہد کر لیا ہے کہ اس طر یق کو چھوڑدیا جاوے۔
یہ کتا ب (نسیم دعوت ۔مر تب ) میں نے اصول مبا حثہ کے لحا ظ سے لکھی ہے۔ اوراسی طریق سے جو میں نے پیش کیا ہے بحث کی ہے جو ہم کو گا لیا ں دیتے ہیں۔ ان کی گا لیوں کا کو ئی جوا ب نہیں دیتے کیو نکہ خدا تعا لیٰ نے ہم سے توگالیوں کی قوت ہی کھو دی ہے ۔کس کس کی گا لی کا جو اب دیں ۔ ۱ ؎
(البدرجلد ۷ نمبر ۹ صفحہ ۱۱۔۱۲ مو رخہ ۱۰ ما رچ ۱۹۰۳ئ)ـّ
۲مارچ ۱۹۰۳ئ
(صبح کی سیر)
مسیح موعوؑد کے ذریعہ خا نہ کعبہ کی حفا ظت
صا حبزادہ سراج الحق صا حب نے عر ض کیا کہ حضورمیرے ایک دوست نے لکھا ہے کہ تم تو حج کر نے کو گئے ہو ئے ہو مگر ہمیں بھلا دیا ہے ۔ ۲ ؎
فر ما یا :۔اصل میںجو لو گ خدا کی طرف سے آتے ہیں ان کی خدمت میں دین سیکھنے کے واسطے جانا بھی ایک طرح کا حج ہی ہے۔حج بھی خدا تعالیٰ کے حکم کی پابندی ہے اور ہم بھی تو اس کے دین اوراس کے گھر یعنی خانہ کعبہ کی حفاظت کے واسطے آئے ہیں ۔
صفحہ درست کریں
123صفحہ
آنحضرت ﷺ نے جو کشف میں دیکھا تھا کہ دجّال اور مسیح موعود اکٹھے طواف کررہے ہیں ۔اصل میں طواف کے معنے ہیں پھرنا تو طواف دو ہی طرح کا ہو تا ہے۔ ایک تو رات کو چور پھرتے ہیں یعنی گھروں کے گرد طواف کر تے ہیں اور ایک چوکیدار طواف کرتا ہے مگر ان میں فرق یہ ہے کہ چور تو گھروں کو لوٹنے اور گھروں کو تباہ و برباد کرنے کے لئے ۔اور چوکیدار ان گھروں کی حفاظت اور بچائواور چوروں کے پکڑنے کے واسطے طواف کرتے ہیں۔یہی حال مسیح اور دجّال کے طواف کا ہے ۔دجّال تو دنیا میں اس واسطے پھرتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ تا دنیا کو خداکی طرف سے پھیر دے اور ان کے ایمان کو لُوٹ لیا جاوے مگر مسیح موعود اس کوشش میں ہے کہ تا اُسے پکڑے ا مارے اور اس کے ہاتھ سے لوگوں کے دین وایمان کے متاع کو بچاوے۔غرض یہ ایک جنگ ہے جو ہمارا دجّال سے ہو رہا ہے ۔
کا مل ایمان والے کو کسی نشان کی ضرورت نہیں ہوتی
ایک صاحب نے عرض کی حضور کیا وجہ ہے کہ بعض لوگوں کو مبشرات کثرت سے ہوتے ہیں اور بعض کو کم بلکہ بالکل ہی نہیں ۔فرمایا کہ:۔
اصل میں اللہ تعالیٰ نے طبائع مختلف پیدا کی ہیں۔ بعض لوگ ایسے ہو تے ہیں کہ اُن کی ایمانی قوت ہی ایسی مضبوط ہوتی ہے کہ اسے کسی نشان کی ضرورت نہیں ہوتی ۔اس کا یمان کامل ہو تا ہے دیکھو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کونسا نشان دیکھا؟یا کون سا خواب آیا ؟یا کوئی نشارت ہوئی تھی جس سے انہوں نے آپ کوپہچان لیا تھا اگر اُن کا کوئی خواب یا بشارت وغیرہ ہو تی تو اس کا ذکر حدیث شریف میں ضرور ہو تا ۔وہ ایک سفر پر گئے ہوئے تھے راستہ میں واپسی پر انہوں نے ایک شخص سے پوچھا۔اپنے شہر کی کوئی نئی بات سنائو ۔اُس نے آنحضرت ﷺ کے دعویٰ نبوت سے آپ کو آگاہ کیا ۔فوراً نے چون وچرامان لیا ۔اس کی وجہ صرف یہی تھی کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کے پہلے حالات دیکھے ہوئے تھے۔وہ بخوبی آگاہ تھے کہ یہ شخص کاذب یا مفتری نہیں ۔اُن کو پہلی واقفیت اور عقلِ سلیم نے آپ کو فوراً قبول کر لینے پر مجبور کیا۔زمانہ کی حالت کو انہوں نے دیکھ لیا تھا۔وقت تھا ضرورت تھی ایک صادق نے خداکی طرف سے الہام پا کر دعویٰ کیا فوراً مان لیا ۔
اصل میں نشانات کی ضرورت بھی کمزور ایمان کو ہو تی ہے ۔کامل ایمان کو نشان کی ضرورت ہی نہیں۔
خداکے مقرب عذابِ الہٰی سے محفوظ رکھے جاتے ہیں
فرمایا کہ
خداکے عذاب سے اپنے آپکو محفوظ رکھنے کے واسطے خداکا قرب حاصل کر نا ضروری ہے۔ جتنا جتنا خدا سے انسان قر یب ہو تا ہے اتنا ہی وہ مصائب،