تعلقا ت تھے کہ بر ادری کی طر ح رہتے تھے اب تفرقہ پیدا ہو ا ہے کہ وہ اندرونی کشش جو ایک دوسر ے میں تھی با قی نہیں رہی ہے بلکہ تعصب اور دشمنی بڑھ گئی ہے پس جبکہ کو ئی حصہ انس اور کشش کا ہی با قی نہ ہو اور ہا ر جیت مقصو د ہو تو پھر اظہا ر حق کس طر ح ہو سکتا ہے ۔
اظہا رِ حق کیلئے ضروری امور
اظہا ر حق کے واسطے یہ ضروری امر ہے کہ تعصب سے اندر خا لی ہو اور بعض اور عنا دنہ ہو ۔ست است کے نر نے کے لیے بحث کا تو نا م بھی درمیا ن میں نہیں آنا چاہیئے بلکہ اس کو چا ہیئے کہ بحث کو چھوڑدے۔
میں یہ بھی ما نتا ہو ں اور یہی میرا مذہب ہے کہ ایک اور غلطی میں لو گ پڑے ہو ئے ہیںکسی مذہب پر حملہ کر تے وقت وہ اتنا غور نہیں کرتے کہ جو حملہ ہم کرتے ہیں اس مذہب کی کتا ب میں بھی ہے یا نہیں ؟ مسلمہ کتب کو چھوڑدیتے ہیں اور کسی کی ذاتی رائے کو لیکر اس کو مذہب کی خبر بنادیتے ہیں ۔
ہم بہت سی با تو ں میں آریہ مذہب کے خلا ف ہیں ۔اور ہم ان کو صحیح تسلیم نہیں کر تے لیکن ہم ان کو ویدپر نہیں لگا تے ہم کو کچھ معلو م نہیں ہے کہ اس میں کیا ہے ہا ں پند ٹدیا نند پر ضرور لگا تے ہیں کیو نکہ انہو ںنے تسیلم کر لیا ہے ہم تو اس عقید ہ کے خلا ف کہتے ہین جو شا ئع کر دیا ہے کہ یہ آریہ سما ج کا عقیدہ ہے اسی طر ح پر آریو ں کو اگر کو ئی اعتر اض کر نا ہو تو چا ہیئے کہ وہ قرآن شر یف پر کر یں یا اس عقیدہ پر جو ہم نے مان لیا ہو اور اس کو شائع کر دیا ہو یہ منا سب نہیں کہ جس با ت کو ہم ما نتے ہی نہیں خواہ نخواہ ہما رے عقیدہ کی طر ف اس کو منسو ب کر دیا جا ئے ۔
مبا حثہ اصو ل پر ہو نا چا ہیئے
اگر اس اصل کو مد نظر رکھا جا وے تو سا معین فا ئدہ اٹھا سکتے ہیں ۔جب تک کتا ب کو کسی نے سمجھا اور پڑ ھاہی نہیں اس پر وہ اعتراض کر نے کا حق کس طر ح رکھ سکتا ہے ۔مذہب کے معا ملہ میں یہ ضروری با ت ہے کہ ما نی ہو ئی اصل پر بحث کر یں ۔اگر چہ ضروری نہیں کہ کل کتا بیں پڑھی جا ویں اس کے لیے تو عمر بھی وفا نہیں کر سکتی۔
مبا حثہ اصول پر ہو نا چا ہیئے ۔ ۱ ؎ جو بطوربحث کے ہیں اور چو نکہ عا م مجمعوں میںحق کو مشتبہ رکھا جا تا ہے ۔ انسا ن