حضر ت نے اس ہند وکو تحفہ آریہ یعنی ’’ نسیم دعو ت‘‘ نئی تصیف دی کہ وتم اسے دیکھو اور بتلاو کو نسی با ت ہے جو اپنے محل پر چسپا ں نہیں ہے۔‘‘ (البدرجلد نمبر ۸صفحہ ۵۷ مو رخہ ۱۳ ما رچ ۱۹۰۳ئ؁)ـّ )ـ (قبل ازظہر) حضر ت اقدس کی زیا رت کے لیے کا شی رام ویدلا ہو ر سے اور بعض اور لو گ تشر یف لا ئے حضر ت اقدس نے مخاطب کر کے ان کو فر ما یا :۔ اختلا ف مذہب کی حکمت ا ختلا ف مذاہب کا جو اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت علمی سے رکھا ہے یہ بھی ایک عمدہ چیزہے۔ اس سے انسا نو ں کی عقل بڑھتی ہے دنیا میں اگر کسی معا ملہ میں اتفا ق بھی کر تے ہیں تو اس کی بار یک دربا ریک جز ئیوں تک پہنچنامحا ل ہو جا تا ہے اور جزئی درجزئی نکلتی چلی آتی ہے ۔ تبا دلہ خیا لا ت کے لیے مجمعوں میں تقریریں کر نی بھی اچھی چیز ہیں لیکن ابھی تک ہما رے ملک میں ایسے مہذب لو گ بہت ہی کم ہیں بلکہ نہیں ہیں جو آرام اور امن کے سا تھ اپنے مخا لف رائے سن سکیں۔ میں نے خود یہ چا ہا تھا اور میرا ارادہ ہے کہ قادیا ن میں ایک جگہ ایسی بنا ویں جہاں مختلف لو گ مذاہب کے جمع ہو کر ا پنے اپنے مذہب کی صد اقت اور خوبیو ں کو آزادی سے بیا ن کر سکیں ۔میں دیکھتا ہو ں کہ اگر اظہا ر حق کے لیے مبا حثے اور تقریریں ہو ں تو بہت اچھی با ت ہے مگر تجربہ سے ثا بت ہو گیا ہے کہ ان میں فتنی وفسا د کا مظنہ ہو تا ہے ہے اس لیے میں ان مبا حثو ں کو چھوڑدیا ہے ممکن ہے دو چا ر آدمی ایسے بھی ہو ں جو صبر اور نر می کے سا تھ اپنے مخالف کی بات سن لیے لیکن کثرت ایسے لوگوںکی ہوگی جو عوام الناس میں سے ہوتے ہیں اور وہ اپنے مخالف کے منہ سے ایک لفظ بھی اپنے مذہب کے خلاف نہیں سن سکتے خواہ وہ کتنا ہی نر م کیو ں نہ ہو ۔چو نکہ جب مخالف بیا ن کر ے گا تو کو ئی نہ کو ئی لفظ اس کے منہ سے ایسا نکل سکتا جو اس کے فر یق مخالف کی غلطی کے اظہا ر میں ہو گا اور اس سے عو ام میں جو ش پھیل جا تا ہے ایسی جگہ تو تب امن رہ سکتا ہے جب سمجھانے والا سمجھنے والا اس طر ح بیٹھیں کہ جیسے با پ بیٹے میں کو ئی بر ائی دیکھتا ہے اور اس کو سمجھاتا ہے یو وہ نر می اور صبر سے اس کو سن لیتا ہے ایسی محبت کی کشش سے البتہ فائدہ ہو تا ہے غیظ وغضب کی حا لت میں یہ امید رکھنا کہ کو ئی فا ئد ہ ہو خام خیا ل ہے ۔ ہندواور مسلمانوں کے با ہم تعلقا ت میں ابتری اب مشکل آکر یہ پڑی ہے کہ ایک تودین کا اختلا ف ہی ہے پھر اس پر احقاق ِحق لو گو ں کی غرض نہیں رہی بلکہ بعض وعناد میں اس قدر تر قی کی گئی ہے کہ اپنے فریق مخالف کا نا م ادب یا عزت سے لینا گنا ہ سمجھا جا تا ہے میں ـ دیکھتا ہو ں کہ بڑی بے ادبی اور گستا خی سے با ت کر تے ہیں پہلے ہندو مسلما ن میں ایسے