ہے کہ اللہ تعا لیٰ کے کلمے اتنے ہیں کہ وہ ختم نہیں ہو سکتے انہی عتراضوں سے ہی بر ی کر نے واسطے اللہ تعا لیٰ نے ان کو کہا کہ وہ شیطا ن کے مَس سے پا ک تھے ورنہ کیا دوسرے انبیا ء شیطا ن کے ہا تھ سے مس شد ہ ہیں ؟ جو نعو ذبا للہ دوسرے الفا ظ میں یو ں ہے کہ ان پر شیطا ن کا تسلط ہو تا ہے ۔اللہ تعا لیٰ تو فر ما تا ہے کہ شیطا ن کو کسی معمولی انسا ن پر بھی تسلط نہیں ہو تا تو انبیا ء پر کس طر ح ہو سکتا ہے ؟ اصل وجہ صر ف یہی تھی کہ ان پر بڑے اعتر اض کئے گئے تھے ۔اسی واسطے ان کی بریت کااظہار فر ما یا جیسے کہ اللہ تعا لیٰ فر ما تا ہے۔ وما کفر سلیمن (البقرہ: ۱۰۳) کو ئی کہے کہ کیا انبیا ء بھی کا فر ہو اکر تے ہیں ؟نہیں ایسا نہیں ۔لو گو ں نے ان پراعتراض کیا تھا کہ وہ بت پر ست ہو گئے تھے ایک عو رت کے لیے ۔اس ا عتراض کا جوا ب دیا یہی حا ل ہے حضر ت عیسیٰؑ کے متعلق۔ اس دن کی سیر کے دوران ایک اور ذکر بھی ہو ا جوالبد ر میں یو ں درج ہے :۔ چو نکہ آج کے د ن بھی آ ریہ سما ج کا جلسہ تھا اور کثر ت سے اس جلسہ میں شا مل ہو ئے تھے کہ حضر ت میر زا صا حب کی زیا رت ہو گی۔مگر جب ان کو معلو م ہو اکہ مبا حثہ کی خبر غلط شا ئع کی گیء ہے تو اب وہ لو گ حضر ت کی زیا رت کے لیے تو مسجد میں آتے رہے اور بعض سیر میں آکرملے ان میں سے بعض نے پھر در خوا ست کی کہ آپ جلسہ میں آکر گفتگو کر یں ۔حضر ت اقدس نے فرما یا کہ :۔ گا لی او ر بر محل با ت میں فر ق مذہبی با تو ں کو علمی رنگ میں بیا ن کر نا چا ہیئے اور یہ تب ہو سکتا ہے کہ جب انسان کو گیا ن حا صل ہو ورنہ بلا سو چے سمجھے کہہ دنیے سے کچھ نتیجہ نہیں نکلا کر تا ۔ہر ایک مذہب میں کھلی کھلی با ت اور گیا ن کی با ت بھی ہو تی ہے جبتک انسا ن نفس کو صا ف کر کے با ت نہ کر ے تو ٹھیک پتہ نہیں لگتا ۔آج کل ہا ر جیت کو مد نظر رکھ کر لو گ با ت کر تے ہیں ۔اس سے فسا د کا اندیشہ ہو تا ہے ۔ با ربار جہا د،طلا ق ،کثر ت ازدوج، کو پیش کیا جا تا ہے ۔حا لا نکہ ان کے بزرگ سب یہ با تیں کر تے آئے ہیں ۔یہا ں کے آریہ ہمیشہ میر ے پا س آتے ہیںاور سوا ل وجواب بھی ہو تا ہے لیکن آپس میں نا راضگی کبھی نہیں ہو تی بعض(دفعہ) با ت اپنے محل پر چسپا ں کہی جا تی ہے لو گ اسے غلط فہمی سے گا لی خیا ل کر لیتے ہیں ان کو یہ علم نہیں ہو تا کہ گا لی اور بر محل با ت میں فر ق کر سکیں ۔بات یہ ہے کہ جب انسا ن پرانے عقیدہ پر جما ہوا ہو تا ہے تو اس کے عقیدے کو جب دوسرا بیا ن کر تا ہے تو اسے گا لی خیا ل کر تا ہے ۔ اس موقعہ پرایک ہندونے کہا آپ نے بعض جگہ گا لیا ں دی ہو ئی ہیں ۔فر ما یا کہ کو ئی ایسی با ت پیش کر و جو اپنے محل پر چسپا ں نہیں ہے۔اس لیے کہتا ہو ں زبا نی تقر یر یں اچھی نہیں ہیں۔ اور تحریر کرتا ہوں کہ ہر ایک پڑھ کراپنی اپنی جگہ پر رائے قا ئم کر لے اور جو اس کا جی چا ہے کہے چنا نچہ اس مو قعہ پر