اس طر ح کہدیں تم جا ہل ہو اور وہ صبر کر رہیں اور ایک کی بجا ئے ہزارنہ سنا ئیںتو ۔
مسلما ن کے اخلا ق
آپ نے مسلما نو ں کو نہیں دیکھا اور نہ ہی آپ نے ان کے اخلا ق دیکھے ہیں ۔ان کا اور ان آریو ں کا مقا بلہ کیا جا وے تو بکر ی اور بھیڑیئے کا معا ملہ نظر آوے ۔عوا م جو ہما رے زیر اثر نہیں ہیں ان کا ذمہ نہیں لیتے ۔گا لی اور جوش دلا نے والے الفا ظ سنکر صبر کر نا مر دوں کا کا م ہو تا ہے۔ اگر کو ئی ایسا کر کے دکھا وے تو ہم جا نیں ۔نر می ہی مشکل ہے سختی تو ہر ایک شخص کر سکتا ہے ۔
خدا تعا لیٰ عمر کو کم وبیش کر سکتا ہے
کسی صا حب نے بیا ن کیا کہ آریو ں نے لیکچر میں کہا کہ عمر کو کم وبیش کر سکتا ہے ۔فر ما یا :۔
ہما را تو اعتقادہے کہ وہ ہر چیزپر قا درہے ۔وہ عمر کو بھی کر سکتا ہے اور زیا دہ بھی کر سکتا ہے۔
یمحواللہ مایشا ء ویتبث(سورت الر عد :۴۰ )
اگر ایسا نہیں ہو تا وہ کیوں مر تے ہو ئے انسان سے صد قا ت کر اتے ہیں ۔اور کیوں علاج معا لجہ کرا تے ہیں ؟ بلکہ عیسا یئو ں کا بھی یہی اعتقا د ہے ان کی کتا بو ں میں لکھا ہے کہ ایک شخص کی پند رہ دن کی عمر رہ گئی تھی دعا سے پند رہ سا ل ہو گئے ۔ اصل با ت یہ ہے کہ یہ قوم نبو ت کی را ہ سے با لکل محر وم ہو نے کی وجہ سے اس راہ اور علم سے جا ہل مطلق اسی وجہ سے ایسے اعتر اض کر تے ہیں ۔روحا نیت سے بے بہر ہ ہو نے کی وجہ سے ہے ورنہ ایسے اعتر اض ہر گز نہ کر تے ۔ ما دہ زاداند ھے کو آنکھیں کیو نکر دیں ۔
(الحکم جلد ۷ نمبر ۱۰ ۔۱۱ با بت ۱۰ ما رچ ۱۹۰۳ئ)
یکم مارچ ۱۹۰۳ئ
(صبح کی سیر )
حضر ت نو اب محمد علی خا نصا حب کے متعلق ایک الہا م
نو اب صا حب کو مخاطب کر کے فر ما یا کہ آج رات ایک کشف میں آپ کی تصو یر ہما رے سا منے آئی اور اتنا لفظ الہا م ہو ا حجت اللہ یہ امر کو ئی ذا تی معا ملا ت سے تعلق نہیں رکھتا ۔اس کے متعلق یو ں تفہیم ہو ئی کہ چو نکہ آپ اپنی برادر ی اور قو م میں سے اور سو سا ئٹی میں سے الگ ہو کر آئے ہیں تو اللہ تعا لیٰ نے آپ کا نا م حجت اللہ رکھا یعنی آپ ان پر حجت ہو ں گے ۔قیا مت کے دن ان کو کہا جا وے گا فلا ں شخص نے تم سے نکل کر اس صدا قت کو پر کھا اور ما نا ۔تم نے کیو ں ایسا نہ کیا ؟ یہ بھی تم میں سے ہی تھا اور تمہا ری طر ح کا ہی انساب تھا چونکہ خدا تعا لیٰ نے آپ کا نا م حجت اللہ رکھا آپ کو بھی چا ہیئے کہ آپ ان لو گو ں پر تحریر سے تقریر سے ہر طر ح