سے حجت پو ری کر دیں ۔ ۱ ؎ اصل میں اس سا ری قوم کی حا لت قا بل رحم ہے عیش وعشر ت میں گم ہیں دنیا کے کیڑے بنے ہو ئے ہیں اور فنا فی یو رپ ہیں ۔خدا سے اور آسما ن سے تعلق نہیں ۔جب کسی کو ایسی قوم میں سے نکا لتا اور اس کی اصلا ح کر تا ہے تو اس کا نام اس قوم پر حجت رکھتا ہے ۔ہما رے بنی ﷺ کو بھی اسی وجہ سے اللہ تعا لیٰ فر ما تا ہے۔
وجئنا بک علی ھو لا ئشھیدا(نسا ء :۴۲)
آنحضرت ﷺکے پاس ایک شخص آیا تھا ۔اس نے کچھ کہا تھا تو آپ نے فر ما یا بس کر ۔اب تو مَیںاپنی ہی امت پر گواہی دینے کے قا بل ہو گیا ہو ں۔ مجھے فکر ہے کہ میر ی امت کو میر ی گو اہی کی وجہ سے سزا ملیگی ۔
کلمتہ اللہ کی حقیقت
حضر ت عیسؑی کو اللہ تعا لیٰ نے کلمتہ اللہ خصو صیت کے سا تھ کیو ں کہا ۔اس کی وجہ یہی تھی کہ ان کی ولا دت پر لو گ بڑے گندے اعتراض کر تے تھے اس واسطے اللہ تعا لیٰ نے ان کو ان الزامو ں سے بری کرنے کے لیے فر ما یا کہ وہ توکلمتہ اللہ ہیں۔ ۲ ؎ ان کی ما ں بھی صدیقہ ہے یعنی بڑی پا کبا ز اور عفیفہ ہے ور نہ یو ں تو کلمتہ اللہ ہر شخص ہے ان کی خصو صیت کیا تھی چنا نچہ اللہ تعا لیٰ فر ما تا