جیل خا نہ میں یا اور سزا ملے گی ۔ یہی حا ل ہے مذہبی راستی کا ۔جو خدا کی نظر میں صا دق ہو تا ہے اسمیں خدا کے نشا ن اور جرات اور صدا قت کے آثار ہو تے ہیں وہ ہر وقت زندہ ہو تا ہے اوراس کی عزت ہو تی ہے ۔ متقی کا مقا م اصل میں خدا سے ڈرنیو الے کو تو بڑی بڑی مشکلا ت ہو تی ہیں ۔انسا ن پا ک صا ف تو جب جا کر ہو تا ہے کہ اپنے ارادو ں کو اور اپنی با تو ں کو با لکل تر ک کر کے خدا کے رادو ں کو اسی کی رضا کے حصو ل کے واسطے فنا فی اللہ جا وے ۔خودی اور تکبر اور نخوت سب اس کے اندر سے نلک جا وے ۔ اس کی آنکھ ادھر دیکھے جد ھر خدا کا حکم ہو ۔اس کے کا ن ادھر لگیں جدھر اس کے آقا کا فر ما ن ہو ۔اس کی زبا ن حق وحکمت کے بیا ن کر نے کو کھلے ۔اس کے بغیر نہ لے جب تک اس کے لیے خدا کا ازن نہ ہو اس کا کھا نا ۔پہننا ۔سونا ۔پینا ۔مبا شر ت وغیرہ کر نا سب اس واسطے ہو کہ خدا نے حکم دیا ہے تب تک اس سرجہ تک نہیں پہنچتا کہ متقی ہو ۔پھر جب یہ خدا کے واسطے اپنے اوپر مو ت واردکر تا ہے خدا کبھی اسے دوسری مو ت نہیں دیتا ۔ مَیںنیک دل انسان کو دور سے پہچا ن لیتا ہو ں آج کل د یکھاجا تا ہے کہ جب لَبْ کھو لا جا تا ہے ۔تو ان کی با تو ں میں سے سوا ئے ہنسی ٹھٹھے دکھا نے والے کلما ت کے کچھ نکلتا ہی نہیں جو کچھ بر تن میں ہو تا ہے وہی با ہر نکلتا ہے ۔ انکی زبا نیں ان کے اند رون پر گو اہی دیتی ہیں۔مَیں تو نیک دل انسا ن کو دور سے پہچا ن لیتا ہو ں جو شخص پا ک کر دار اور سلیم دل لے کر آتا ہے مَیںتوا سی کے دیکھنے کا شو ق رکھتا ہو ں ۔اس کی تو گا لی بھی بر ٰ معلو م نہیں ہو تی ۔ مگر افسو س کہ ایسے پا ک دل بہت کم ہیں ۔ صبر اور حلم کا نمو نہ ایک آر یہ صا حب بو لے کہ ا صل میں حضو ر جا ہل دو ہی قو میں ہیں۔ آپ برا نہ ما نیں تو مَیں عر ض کر دو ں ۔اول تو سکھ دوسرے ہما رے یہ مسلما ن بھائی ۔ اس پر حضر ت اقدس نے فر ما یا کہ دیکھئے ایک سمجھنے والے کے لیے جا ہل سے زیا دہ اور کیا گا لی ہو سکتی ہے۔ کسی شخص کو اس کے منہ پر جا ہل کہنا بہت سخت گا لی ہے مگر سو چو تو کیا حاضر ین میں کو ئی ایک بھی بو لا ہے ؟ کیا اب بھی تمہیں اس مجلس کی نر می اور تہذیب پر کچھ شک ہے ؟ بہت ہیں جو ہما رے منہ پر گا لیا ں دے جا تے مگر ان میں سے ایک کی بھی مجال نہیں ہو تی کہ دم ما ر کر اس کو کچھ بھی کہہ جا وے ۔ ہم ان کو دن رات صبر کی تعلم دیتے ہیں ۔نر می اور حلم سکھا تے ہیں ۔یہ وہ قو م نہیں کہ آپ کے اس اصو ل کی مصداق بن سکے ۔ہا ں ہم البتہ عوا م النا س لو گو ں کے ذمہ دار نہیں ہیں ہم تب ما نیں اگر کسی آریہ لو گو ں کے مجمع میں